ولادت باسعادت: آپ 10 شوال 1272ھ مطابق 14 جون 1856ء بروز ہفتہ بوقت ظہر بریلی شریف (یوپی ،انڈیا) کے محلہ جسول میں پیدا ہوے۔
نام مبارک: آپ کا نام "محمد" ہے، اور آپ کے دادا نے آپ کو "احمد رضا" کہہ کر پکارا، تاریخی نام "مختار" ہے، جب کہ دنیاے سنیت آپ کو "اعلی حضرت" کے نام سے یاد کرتی ہے، اور بعد میں آپ نے خود اپنے نام میں "عبد المصطفی" کا اضافہ فرمایا۔
آباؤ اجداد: آپ کے آباؤ اجداد قندھار کے قبیلہ بڑہیج کے پٹھان تھے، مغلیہ دور میں وہ لاہور آے اور معزز عہدوں پر فائز ہوئے، لاہور سے دہلی آے اور یہاں بھی معزز عہدوں پر ممتاز ہوے، آپ کے والد کے پر دادا "اعظم خاں" (جنہوں نے ترک دنیا کو اختیار فرمایا) نے بریلی سکونت اختیار کی اور وہیں وصال فرمایا، "اعظم خاں" کے فرزند "کاظم علی خاں" بھی شہر بدایوں کے تحصیل دار تھے، "کاظم علی خان" کے فرزند "مولانا رضا علی خان تھے" ، اور "مولانا رضا علی خان" کے فرزند دلبند "مولانا نقی علی خان" ہیں، جو سیدی "اعلی حضرت" کے والد گرامی ہیں۔
تسمیہ خوانی: آپ کی "بسم اللہ خوانی" کے وقت ایک عجیب واقعہ پیش آیا، آپ کے استاد محترم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد الف، با، تا، ثا، جس طرح پڑھایا جاتا ہے اسی طرح پڑھایا، اور آپ استاد کے پڑھانے کے مطابق پڑھتے رہے، لیکن جب "الف لام" کی باری آئ تو آپ خاموش ہوگیے، استاد نے دوبارہ کہا پڑھو، تو آپ نے فرمایا :یہ دونوں تو پڑھ لیے دوبارہ کیوں پڑھوں؟، اس وقت آپ کے جد امجد نے فرمایا :بیٹا استاد کا کہا مانو! جو کہتے ہیں پڑھو! حضور اعلی حضرت نے جد امجد کی طرف نظر کی تو جد امجد نے فراست ایمانی سے سمجھ لیا کہ بچہ کو شبہ ہورہا ہے کہ یہ حروف مفردہ کے بیان میں مرکب کیسے آگیا، اور سمجھ گیے کہ یہ بچہ آگے کچھ بننے والا ہے لہذا اسرار و نکات کا بیان مناسب سمجھا اور فرمایا بیٹا! تمہارا خیال درست ہے، لیکن شروع میں جس "الف" کو تم نے پڑھا وہ حقیقت میں ہمزہ ہے، اور یہ در حقیقت "الف" ہی ہے، لیکن "الف" ہمیشہ ساکن ہوتا اور ساکن سے ابتدا نہیں کی جاتی ہے اسی لیے ایک حرف یعنی "لام" کے ساتھ ملا کر تلفظ بتایا گیا ہے، سیدی اعلی حضرت نے فرمایا :تو کوئی اور حرف ملادینا کافی تھا، صرف لام کی کیا خصوصیت ہے؟ با، تا، دال بھی تو شروع میں لاسکتے تھے، حضرت جد امجد نے فرط جوش میں گلے سے لگا لیا اور بہت دعاؤں سے نوازا، پھر فرمایا :"الف" اور "لام" میں مناسبت خاص ہے یعنی لکھتے وقت بھی دونوں کی صورت ایک سی ہے یعنی ا ل، اور سیرۃ میں بھی دونوں میں مناسبت ہے وہ یہ کہ "الف" "لام" کا اور "لام" "الف" کا قلب ہے، بتانے کو تو جد امجد نے "الف" اور "لام" کو مرکب لانے کی وجہ بیان فرمائی، مگر در حقیت اسرار و حقائق کی صلاحیت و قابلیت اسی وقت پیدا کردی تھی، جس کا اثر آنے والے وقت میں سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔
تحصیل علم: جب آپ ابتدائی تعلیم سے فارغ ہوگیے تو مروجہ علوم کی تکمیل والد ماجد نقی علی خان سے کی اور صرف تیرہ سال دس ماہ کی عمر میں سند فراغت حاصل کرلی، اسی دن آپ نے رضاعت سے متعلق ایک فتویٰ تحریر فرمایا، والد ماجد نے فتویٰ صحیح پاکر مسند افتا آپ کے سپرد کردی، یوں آپ نے مسند افتا کو رونق بخشی اور آخری عمر تک فتاویٰ تحریر فرماتے رہے۔
اساتذہ: آپ کے اساتذہ کی فہرست بہت مختصر ہے، آپ کے والد ماجد نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ آپ کے اساتذہ میں جناب مرزا غلام قادر بیگ، جناب مولانا عبد العلی رامپوری، حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری، اور آپ کے پیرو مرشد حضرت شاہ آل رسول مارہروی شامل ہیں ۔
تلامذہ: اگر چہ آپ نے باقاعدہ کسی مدرسہ میں مدرس بن کر تدریس نہیں فرمائی لیکن پھر بھی آپ کے تلامذہ کی فہرست طویل ہے جن میں چند یہ ہیں :مولانا حامد رضا خان(صاحبزادہ اکبر)، مولانا امجد علی اعظمی (مصنف بہار شریعت)، مولانا ظفر الدین بہاری، مولانا حسن رضا خان (برادر خود)، مولانا سید شاہ احمد اشرف کچھوچھوی، مولانا سید محمد محدث کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔
شادی و اولاد: آپ 1291 ہجری میں جناب افضل حسین کی بڑی صاحبزادی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوے، آپ کی سات اولاد ہوئیں، دو صاحبزادے: (1) حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان، (2) مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان، ان کے علاوہ پانچ صاحبزادیاں:(1) مصطفائی بیگم (2)کنیز حسن(3)کنیز حسین (4)کنیز حسنین(5)مرتضائ بیگم۔
بیعت و خلافت: آپ 1295ھ مطابق 1878ء میں اپنے والد ماجد کے ہمراہ شاہ آل رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوے، اور مختلف سلاسل طریقت میں خلافت و اجازت حاصل کی، مثلا قادریہ، نقشبندیہ، چشتیہ ،سہروردیہ، علویہ وغیرہ، مرشد حق نے آپ کو خرقہ مقدسہ بھی عطا فرمایا۔
سفر حرمین طیبین:آپ نے دو مرتبہ سفر حرمین طیبین فرمایا:(1) پہلا سفر 1295ھ میں، اور (2) دوسرا 1323 ہجری میں ۔
علم و قابلیت: آپ نے بعض علوم اپنے دور کے متبحر علما سے حاصل کیے، اور باقی تمام علوم اپنی خداداد صلاحیت و قابلیت کی بنا پر اور وسیع مطالعے کے ذریعہ حاصل کیے، یوں تقریباً ستر سے زائد علوم میں حیرت انگیز مہارت حاصل کی اور کم و بیش پچاس علوم میں قلم اٹھایا، اور ایک ہزار سے زائد شاندار کتب تصنیف فرمائیں۔
وصال: آپ نے 25 صفر المظفر 1340 ہجری مطابق 28 اکتوبر 1921عیسوی جمعہ کے دن دو بج کر 38 منٹ پر داعی اجل کو لبیک کہا۔
مزار مبارک:آپ کا مزار پر انوار شہر بریلی شریف محلہ سودا گران میں موجود فیوض و برکات لٹا رہا ہے۔
T.F.Barkati
