❣️ سیدی اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جب وصال ہوگیا، تو آپ کے وصال کے بعد فوراً جمعہ کی تیاری کی آواز لگا دی گئی، اور سب حاضرین واہل خانہ بجاۓ آہ و بکا وگریہ و زاری کے جمعہ کی تیاری میں لگ گئے، جمعہ کے بعد لوگ بہت آگئے، تجہیز و تکفین و تدفین کا مشورہ ہوا،فوراً ۴۵ تار دیئے گئے جہاں جہاں سے لوگ آسکتے تھے وہ دفن کے مقررہ وقت تک بریلی آگئے۔
غسل میں سادات عظام اور علماۓ کرام واہل خاندان نے شرکت کی، جنازہ تیار ہوا تو کفن لانے والے صاحب عطر بھول گئے تھے، عین ضرورت کے وقت محلہ پیٹھ میراں کے ایک حاجی صاحب اعلیٰ حضرت قبلہ کی نذر کے لیے مدینہ پاک کا عطر،غلافِ کعبہ، آب زمزم، خاک شفا وغیرہ لے کر آ گئے، یہ عطیہ عین وقت پر پہنچا، یہ سب چیزیں فوراً کام آئیں۔
رونمائی کے بعد جنازہ نماز کے لیے عید گاہ چلا، اس لیے کہ وسط شہر میں کوئی ایسا وسیع میدان نہ تھا بجز ایک ارض مغصوبہ کے، سوداگری محلہ سے عید گاہ تک جو کشمکش رہی ہے وہ کبھی نہ دیکھی، یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ اس چھین جھپٹ میں پلنگ ٹوٹ کے ٹکڑے ہو جاۓ گا مگر شکر ہے کہ پلنگ سلامت رہا_
عید گاہ پہنچ کر ایک تعجب خیز منظر اور دیکھا کہ عید گاہ میں چھ ٦ سات ٧ جنازے پہلے سے رکھے ہیں، اعلیٰ حضرت کے جنازے کا انتظار ہو رہا ہے، لوگوں سے کہا کہ تم نے حسب دستور اپنے اپنے محلہ میں نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیوں نہ کر دیا؟ یہ کیا کیا؟ تو انہوں نے کہا :کہ یہ سب اعلیٰ حضرت قبلہ کے فدائی تھے، ان کے جنازوں کی نماز آپ کے جنازہ کے ساتھ ہو گی، وہ بھی عجب سماں تھا کہ اکھٹے سات ٧ آٹھ ٨ جنازوں کی نماز ایک ساتھ ہو رہی تھی، لوگ صف بستہ نماز ادا کر رہے تھے، دو ایک جنازے دیہات کے تھے، باقی شہر کے مختلف حصوں کے تھے۔
ظہر کی نماز عید گاہ میں ادا کی گئ، نماز کے بعد جنازہ سوداگری محلہ لاکر خانقاہ رضویہ میں سپرد خدا کر دیا گیا، یہاں حاضرین نے نماز عصر ادا کی اور اسی وقت مزار شریف پر تلاوت قرآن پاک شروع ہو گئی جو تین ۳ دن ۳ رات مسلسل جاری رہی، رات میں بھی کسی وقت ایک آن کو تلاوت نہ رکی_
📝 ماخوذ از: جـــامع الاحـــادیث

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں