یہ جمعہ مبارکہ کا دن تھا، جب کہ دنیائے اسلام میں خطیب منبروں پر خطبوں میں بلند آواز سے پڑھ رہے تھے: "اللّھمّ انصر من نصر دین محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم واجعلنا منھم" ترجمہ: اے اللہ! اسکی مدد کر جس نے تیرے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دین کی مدد کی اور ہمیں بھی ان کی ہمراہی کا شرف عطا فرما! ۔ آپ کی روح، ان دعاؤں کے جھرمٹ میں ملی جلی بارگاہِ ربّ العزّت میں حاضر ہو گئ۔ رحمۃ اللہ تعالی علیہ!
اس جمعہ سے قبل والے جمعہ کو اعلی حضرت کی مسجد تشریف آوری میں دیر لگی تھی، آپ کے انتظار کی وجہ سے لوگوں نے جمعہ میں معمول کے خلاف تاخیر کرا دی، اس واسطے کہ اعلی حضرت قبلہ کو کئ بار وضو کرنا پڑا تھا، لہذا آج صبح ہی سب سے تاکید فرما دی کہ پچھلے جمعہ کی طرح آج میری وجہ سے نمازِ جمعہ میں اصلا تاخیر نہ کی جائے، جمعہ کی نماز معمول کے مطابق وقت پر قائم ہو، کوئی بھی کچھ کہے نہ مانا جائے، لوگ اس کا یہ مطلب سمجھے کہ پچھلے جمعہ میں جو بعض حضرات کے کہنے سے مقررہ وقت ٹالا گیا اس کی آج ممانعت فرما دی ہے، یہ گمان بھی نہ تھا کہ یہ آج ہی عین جمعہ کے وقت رخصت ہو رہے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ لوگ اس وقت رونے پیٹنے میں بد حواس ہوں گے جمعہ میں بلا وجہ تاخیر ہوگی۔
اعلی حضرت قبلہ کو التزام جماعتِ نمازِ پنج گانہ میں بہت ملحوظ تھا، کئ سال پہلے پاؤں کا انگوٹھا ایسا پکا تھا کہ نہ جوتا پہنا جاتا تھا، نہ کھڑے ہو سکتے تھے، اس بار پہلی مرتبہ ظہر کے وقت باہر تشریف لائے تو چاروں ہاتھ پاؤں کی مدد سے باہر تشریف لائے۔ خدام نے فورا کرسی پر بٹھا دیا، اسی طرح بعد نماز کرسی پر بیٹھا کر لے گئے اور پلنگ پر بٹھا دیا اور استنجے کے لیے پلنگ سے ملا کر چوکی لگا دی گئی، جب تک انگوٹھا پکا یہ عمل جاری رہا کہ جماعت میں شرکت کے لیے زنانہ مکان سے کرسی پر مسجد کے اندر آئے اور مسجد سے کرسی پر اندر لیجائے گئے، ابتداءً اس سے کراہت کا اظہار فرماتے رہے مگر خدّام کی ضد نے مجبور کر دیا تھا، اس علالت میں بھی آپ جب مسجد نہ جا سکے تو نمازوں کے اوقات پر کرسی لیے موجود رہتے اور جماعت میں آپ کو نماز پڑھاتے، چنانچہ جمعۃ الوفات سے پہلا جمعہ آپ نے مسجد میں باجماعت ادا کیا تھا، کرسی اٹھانے کے لیے کچھ مخلصین اور کچھ گھر والے نماز کے وقت ضرور حاضر ہو جاتے۔ خداوند عالم ان سب کو اجرِ خیر دے آمین!
📝 ماخوذ از: جــــامع الاحـــادیث

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں