خود روتے دوسروں کو رلاتے اور سرکار دو عالم ﷺ کی یاد تو مدت العمر آپ کی ہر صحبت میں ہر تقریر کا موضوع ہی رہی، وہ موقع بموقع ضرور ہوا کرتی، دورانِ علالت کی صحبتوں میں یہ بھی بارہا فرمایا کہ ربّ العزّت کا فضل مانگو وہ اگر عدل فرمائے تو ہمارا تمہارا کہیں ٹھکانہ نہ لگے، اولیائے کرام کے قصص اکثر مثال کے طور پر پیش فرماتے۔
وصال کے دن (جمعہ) بھی یہ مجلس تذکیر دیر تک رہی، اس دن بھی لوگ پند و نصائح کے انمول موتیوں سے دامن مراد بھر کے لوٹے، تھوڑی دیر کے لیے سب یہ سمجھے کہ آج صحت کی طرف طبیعت کا صحیح قدم اٹھا ہے، لیکن یہ کوئی نہ جانتا تھا کہ اعلی حضرت قبلہ جو کچھ اظہار طمانیت کر رہے ہیں وہ صرف سب لوگوں کا غم غلط کرنے کو کر رہے ہیں، در حقیقت آج ہی آپ کی روانگی ہے، یہ تو جب معلوم ہوا کہ جب آپ نے اپنی روانگی کے پروگرام پر عمل در آمد شروع کر دیا۔
سب سے پہلے آپ نے مفتئ اعظم ہند سے کل جائیداد کا وقف نامہ لکھوایا، خود اس کا مضمون بولتے جاتے اور حضور مفتئ اعظم لکھتے جاتے، جب وقف نامہ لکھا گیا تو خود ملاحظہ فرما کر دستخط ثبت فرما دئیے، وقف نامے میں جائیداد کی چوتھائی آمدنی مصرفِ خیر میں رکھی، اور تین چوتھائی آمدنی بحصص شرعی ورثہ پر تقسیم فرما دی۔
صبح سے کچھ کھایا نہ تھا، خشک ڈکار آئی، حکیم حسین رضا خان صاحب حاضر خدمت تھے، ان سے فرمایا کہ معدہ بفضلہ تعالی بالکل خالی ہے، ڈکار خشک آئی ہے، اس پر بھی احتیاطا ایک مرتبہ وصال سے کچھ قبل چوکی پر بیٹھے، اب گھڑی سامنے رکھوالی، اب سے جو کام کرتے تو پہلے وقت دیکھ لیتے، شروعِ نزع سے کچھ قبل فرمایا: کارڈ، لفافے، روپیہ، پیسہ کوئی تصویر اس دالان میں نہ رہے، جنب یا حائضہ نہ آنے پائے، کتا مکان میں نہ آئے، سورۂ یسین اور سورۂ رعد بآواز پڑھی جائیں، کلمہ طیبہ سینہ پر دم آنے تک متواتر بآواز پڑھا جائے، کوئی چلا کر بات نہ کرے، کوئی رونے والا بچہ مکان میں نہ آئے، بعد قبضِ روح فورا نرم ہاتھوں سے آنکھیں بند کر دی جائیں، "بسم اللہ و علی ملۃ رسول اللہ" کہہ کر نزع میں سرد پانی ممکن ہو تو برف کا پانی پلایا جائے، ہاتھ پاؤں وہی پڑھ کر سیدھے کر دئیے جائیں، اصلا کوئی نہ روئے، وقتِ نزع میرے اور اپنے لیے دعاء خیر مانگتے رہو، کوئی برا کلمہ زبان سے نہ نکلے کہ فرشتے آمین کہتے ہیں، جنازہ اٹھنے پر خبردار کوئی آواز نہ نکلے، غسل وغیرہ سب مطابق سنت ہو، جنازہ میں بلا وجہ شرعی تاخیر نہ ہو، جنازہ کے آگے کوئی شعر میری مدح کا ہرگز نہ پڑھا جائے، قبر میں بہت آہستگی سے اتاریں، داہنی کروٹ پر وہی دعا پڑھ کر لٹائیں، نرم مٹی کا پشتارہ لگائیں، جب تک قبر تیار ہو "سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ و اللہ أکبر ، اللّھمّ ثبّت عبیدک ھذا بالقول الثابت بجاہ نبیّک ﷺ" پڑھتے رہیں۔
اناج قبر پر نہ لے جائیں، یہیں تقسیم کر دیں، وہاں بہت غل ہوتا ہے اور قبروں کی بے حرمتی، بعد تیاری قبر کے سرہانے "الم تا مفلحون"، پائنتی" آمن الرسول تا آخر سورہ" پڑھیں، اور سات ۷ بار بآواز بلند حامد رضا خان اذان کہیں اور متعلقین میرے مواجہ میں کھڑے ہو کر تین ۳ بار تلقین کریں۔
پھر اعزّہ و احباب چلے جائیں، ہو سکے تو ڈیڑھ گھنٹے میری مواجہ میں درود شریف ایسی آواز سے پڑھتے رہیں کہ میں سنوں، پھر مجھے" ارحم الراحمين" کے سپرد کر کے چلے جائیں، اگر ہو سکے تو تین شبانہ روز پہرے کے ساتھ دو ۲ عزیز یا دوست مواجہہ میں قرآن مجید آہستہ آہستہ یا درود شریف ایسی آواز سے بلا وقفہ پڑھتے رہیں کہ اللہ چاہے تو اس نئے مکان سے میرا دل لگ جائے، کفن پر کوئی دوشالہ یا قیمتی چیز یا شامیانہ نہ ہو غرض یہ کہ کوئی بات خلافِ سنّت نہ ہو ۔
📝 ماخوذ از: عـــــقائد و کلام

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں