ہفتہ، 19 جون، 2021

سیــــدی اعلیٰ حضرت کی علالت!

✍️ پیش کش: شمــــــع انصاری 

❣️ امام احمد رضا قدّس سرّہ ان اولياۓ کاملين ميں سے تھے جن کے قلوب پر فرائضِ الہٰيہ کی عظمت چھاٸ رہتی ہے، چنانچہ جب ١٣٣٩ھ  کا ماہِ رمضان المبارک مٸ جون ١٩٢١ء ميں پڑا اور مسلسل علالت اور ضعف کے باعث آپ نے اپنے اندر اس سال کے موسمِ گرما ميں روزہ رکھنے کی طاقت نہ پائی تو اپنے حق ميں فتویٰ ديا کہ ميں  پہاڑ پر جا کر روزہ رکھ سکتا ہوں اور ميرے اندر يہ وسعت و استطاعت بھی ہے، لہذا وہاں جا کر روزے رکھوں گا، چناچہ آپ نے وہاں جا کر روزے رکھے ۔

         اسی دوران آپ نے مشہور محدّث امام المحدثين حضرت مولانا شاہ وصی احمد صاحب محدّث  سورتی ثمّ پيلی بھيتی کی تاريخِ وصال اس آيتِ کريمہ سے نکالی: "وَ يُطاَفُ عَلَيھِم بِاٰنِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَّ اَکوَابٍ" ترجمہ: ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا “١٣٣٤۔

        ان کا وصال ١٣٣٤ھ ميں ہو چکا تھا اور امام احمد رضا قدّس سرّہ کے نہايت مخلص دوستوں ميں تھے، تاريخ وصال نکالنے کے بعد فرمايا: اس آيت کے شروع ميں واو ہے، اگر اس کو باقی رکھ کر حساب کيا جاۓ تو دوست دوست سے مل جاۓ گا، حاضرين نے اس وقت تو غور نہ کيا ليکن جب ١٣٤٠ھ ميں وصال ہوا، تو لوگوں نے سمجھا کہ يہ تو اعلیٰ حضرت نے باتوں ہی باتوں ميں اپنے وصال کی خبر دی تھی ، کيوں کہ بحساب ابجد ”واو“ کے عدد چھ ٦ ہيں ، اس طرح ١٣٣٤ ميں چھ ٦ کا اضافہ کرکے ١٣٤٠ ہوتے ہيں، يہ واقعہ وصال سے چھ سے ٦ماہ پہلے کا ہے۔

       ❣️قارئین! آپ کی سنِ ولادت کا استخراج اور اس کی توجيہ پڑھ چکے ہيں ، اب دونوں کو جمع کيجيۓ تو صاف  ظاہر ہوگا کہ سنِ ولادت کی آيتِ کريمہ آپ کے ايمان  راسخ کا پتا ديتی ہے، تو اس پر مرتب ہونے والا نتيجہ بفضلہ تعالیٰ آخرت ميں يہ ہی ہوگا کہ جنت کی ابدی راحتوں ميں سونے چاندی کے ساغر و صراحی ليے حور و غلماں ان پر پيش ہوتے رہيں گے اور يہ دور ہميشہ چلتا رہے گا ۔❣️

           مولانا حسنين رضا خاں صاحب لکھتے ہيں:اس بار آپ جب بھوالی سے تشريف لاۓ تو علالت کا کسی قدر سلسلہ چل رہا تھا، اپنے پير و مرشد سيّد آل رسول مارہروی کا عرس کيا اور عرس ميں حسبِ معمول تقرير فرمائ، اس تقرير ميں از اول تا آخر مسلمانوں کو نصيحتيں ہی فرمائیں ، آخر ميں يہ بھی فرمايا کہ آئندہ ہميں تمہيں شايد ايسا موقع نہ ملے، اس ليے جو يہاں موجود ہيں وہ بغور سنيں اور جو موجود نہيں ہيں انہيں ميرے الفاظ پہنچا ديں، اس پر سارا جلسہ بد حواس ہو کر رونے لگا، پھر تسکين دی اور فرمايا کہ خدا ميں سب قدرت ہے، وہ چاہے تو ہم تم اسی طرح بارہا جمع ہوں، غرض يہ کہ آج لوگ متنبہ ہو گۓ کہ اب آپ ہم ميں رہنے والے نہيں، اب لوگوں نے بيعت ہونے کی  جلدی  کی، ہر وقت آستانہ رضويہ پر مريد ہونے والے مردوں اور عورتوں کا جم غفير رہنے لگا تو حکم ديا کہ ميری طرف سے مردوں کو حجتہ الاسلام مولانا حامد رضا خانصاحب مريد کريں اور  عورتوں کو مفتٸ اعظم مولانا مصطفیٰ رضا خانصاحب بيعت کريں۔

          يہ سلسلہ روزِ وفات تک برابر  جاری رہا۔ باہر کے لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ بھی آکر بيعت ہوۓ، يوم وفات سے ٢ روز قبل شنبہ کے روز اعلی حضرت پر تپ لرزہ کا حملہ محسوس ہوا، اس سے دفعتًہ کمزوری بڑھ گٸ اور اتنی بڑھی کہ نبض غائب ہو گٸ، اس وقت جناب حکيم حسين رضا خانصاحب بھی حاضر تھے، ان سے فرمايا کہ نبض تو ديکھو ! ،انہوں نے نبض ديکھی تو وہ ڈوب چکی تھی ۔ انہوں نے گھبرا کے عرض کيا کہ کمزوری کے سبب نبض نہيں ملتی ۔فرمايا آج کيا دن ہے؟ حاضرين ميں سے کسی نے عرض کيا: چہار شنبہ ہے، اس پر فرمايا : جمعہ پرسوں ہے اور يہ فرما کر کفِ افسوس ملتے جاتے اور "حسبنا اللہ و نعم الوكيل" پڑھتے جاتے ،يہ سب کچھ آپ کا پيارا رب ديکھ رہا تھا،اس نے اس کمزوری کے حملے کو آن کی آن ميں دفع فرما ديا اور طبيعت بد ستور سہولت پر آگٸ، اب حاضرين رخصت ہونے لگے ، پھر دو ٢ دن طبيعت خوشگوار رہی يہاں تک کہ  جمعہ کے روز جب نماز فجر کے بعد مزاج پرسی کے ليے لوگ اندر گۓ ہيں تو اعلی حضرت قبلہ کو کافی پر سکون پايا۔

         ٢٥ صفر کو لوگ بعد نماز فجر حسب معمول مزاج پرسی کے ليے آۓ تو اعلی حضرت قبلہ کی طبيعت اس قدر شگفتہ اور بحال تھی کہ لوگوں کو مسرت ہوٸ اور يہی حالت رحالت تک رہی۔

             📝 ماخوذ از: عـــــــقائد و کلام

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں