لیکن اس دور میں بھی ایسی ہستی موجود تھی جو استقامت کے ساتھ راہِ حق پر ڈٹی رہی، جس نے اپنی مدبرانہ قیادت سے ملت اسلامیہ کو دشمنوں کی یلغار سے بچایا، مسلمانانِ ہند کی فلاح و بہبود کے لیے سینہ سپرد رہی اور ان کی رہنمائی کرتے ہوئے سیاسی معاملات میں علمی اور قلمی جہاد کیا، جن کے قلم سے نکلا ہوا اک اک حرف صداقت پر مبنی تھا، جن کے سیاسی تدبر نے ہند میں کھوکھلے ہوتے ہوئے مسلمانوں کے اسلامی تشخص میں نئی جان پھونک دی۔ وہ عظیم ہستی امام اہل سنت مجدد اعظم امام عشق و محبت اعلیٰ حضرت سیدی امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات بابرکات ہے۔
جنہوں نے انیسویں صدی کی کی دوسری اور تیسری دہائی میں چلنے والی ہر اسلام مخالف تحریک کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ تحریک ترک موالات، تحریک ہجرت، تحریک عدم تعاون، تحریک گاؤ کشی، تحریک خلافت، تقدیر و تدبیر، اور دار الحرب، تحریک جدید اقتصادیات، میثاق لکھنؤ جیسے معاملات میں شرپسند عناصر کے عزائم کو بھانپ کر اپنے بےمثل مدبرانہ سیاست کا ثبوت دیتے ہوئے انکا بھرپور تعاقب کیا۔ چنانچہ جب آپ نے ترک موالات فتویٰ پر دستخط سے انکار کردیا تھا تو مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی بذات خود آپ کے پاس آئے اور اپنی تحریک میں شمولیت کی دعوت دی تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے واضح طور پر فرما دیا: "مولانا ! میری اور آپ کی سیاست میں فرق ہے۔ آپ ہندو مسلم اتحاد کے حامی ہیں ، میں مخالف ہوں -" {حوالہ: فاضل بریلوی اور ترکِ موالات ، مصنف پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد ، مطبوعہ ادارہء مسعودیہ کراچی ، ص٤٥}
امام اہل سنت علیہ الرحمہ کے بےمثل سیاسی تدبر کا منھ بولتا ثبوت یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنے سیاسی تدبر کے پیش نظر ہندو مسلم اتحاد کی سخت مخالفت کی۔ آپ گاندھی کی قیادت کو مسلمانان ہند کے لیے مہلک جانتے تھے۔ اس مسئلہ پر اپنوں سے بھی سخت اختلاف کیا اور قلم اور فتاوی کے ذریعے ان مسلمانوں کی بھی ذبردست مخالفت کی جن کی حرکات کی وجہ سے ہندو مفادات قدم جما رہے تھے۔
سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے سیاسی میدان میں سب سے پہلا فتویٰ جواں سالی ہی میں تقریباً ٢٤ سال کی عمر میں گاؤ کشی کی حمایت پر دیا تھا۔ جس پر شبلی نعمانی کے استاد مولانا ارشاد حسین رامپوری نے توثیقی دستخط ثبت کرتے ہوئے فرمایا : " الناقد بصیر " یعنی پرکھنے والا آنکھیں رکھتا ہے۔پھر جب تحریک ترک موالات کے زمانے میں ہندوؤں کی جانب سے ترکِ گاؤ کشی کا مطالبہ ہوا تو کئی مسلم لیڈروں کے بھی قدم ڈگمگا گیے ، اپنے بیانات و تحریرات میں مسلمانوں سے گاے کی قربانی موقوف کرنے کو کہا، اور سیاسی پلیٹ فارم سے بھی ترکِ گاؤ کشی کے مطالبہ کی حمایت بھی کر دی ۔ شبلی نعمانی نے تو گاے کی قربانی کرنے کے بجائے اس کی قیمت ادا کرنے کا فتویٰ دے دیا تھا، ایسے نازک ماحول میں سرکار اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ اور ان کے خلفاء و تلامذہ نے باطل کی سرکوبی کی اور قوم میں گھسے گاندھی کے چیلوں کے منافقت کے پردے چاک کر دیے۔
سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے سیاسی تدبر پر معروف محقق، ماہرِ رضویات پر پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رضوی فرماتے ہیںکہ:مولانا بریلوی مذہبیات و ادبیات کے علاوہ سیاسیات میں بھی بڑی بصیرت رکھتے تھے ۔ وہ ایک عظیم مدبر تھے۔ ان کے مندرجہ محققانہ رسائل نے سیاستِ ملیہ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور سیاست دانوں کی رہنمائی فرمائی ہے۔
(١) انفس الفکر فی قربان البقر(١٢٩٨ھ / ١٨٨٠ ء)
(٢) اعلام الاعلام بأن ھندوستان دار السلام (١٣٠٦ھ/١٨٨٨ء)
(٣) تدبیر فلاح و نجات و اصلاح ( ١٣٣١ھ/١٩١٢ء)
(٤) دوام العیش فی الائمۃ من القریش (١٣٣٩ھ/١٩٢٠ء)
(٥) المحبۃ المؤتمنۃ فی آیت الممتحنہ (١٣٣٩ھ/١٩٢٠ء)
(٦)الطاری الداری لھفوات عبد الباری (١٣٣٩ھ/١٩٢١ء)
{حوالہ: حیات مولانا امام احمد رضا خان بریلوی، صفحہ ١٠٠، مؤلف ڈاکٹر محمد مسعود احمد، مطبوعہ ادارہء تحقیقات امام احمد رضا کراچی ١٩٩٩ء}
جب تحریک ترکِ موالات کے زیر اثر ہندو مسلم اتحاد کی تحریک اٹھی تو امام اہل سنت مجدد اعظم علیہ الرحمہ نے اپنے رسالے 'المحبۃ المؤتمنۃ" میں قومِ مسلم کی رہنمائی فرماتے ہوئے فرمایا کہ: "تبدیل احکام الرحمٰن اور اختراع احکام الشیطان سے ہاتھ اٹھاؤ، مشرکین سے اتحاد توڑو، مرتدین کا ساتھ چھوڑو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دامن تمہیں اپنے سائے میں لے، دنیا نہ ملے نہ ملے، دین تو ان کے صدقے میں ملے۔" يا أيها الذين آمنوا اادخلوا في السلم كافة ولا تتبعوا خطوات الشيطٰن إنه لكم عدو مبين،{حوالہ: المحبۃ المؤتمنۃ بحوالہ أوراق گم گشتہ ، ص ٣٠٥ مؤلف رئیس احمد جعفری، مطبوعہ لاہور ١٩٢٨}
امام عشق و محبت سرکار اعلی حضرت علیہ الرحمہ عالمِ اسلام کے صرف ایک عظیم دینی اور مذہبی شخصیت ہی نہیں تھے بلکہ فنِ سیاست میں بھی آپ ماہرانہ تدبر رکھتے تھے۔
آپ نے مسلمانوں کی ایسی سیاسی تربیت فرمائی ہے جس کی بدولت دانش مند سیاست دانوں کی ایک جماعت تیار ہوئی اور آپ علیہ الرحمہ نے مسلمانوں کے لیے سیاسی پلیٹ فارم جماعت رضائے مصطفی (١٩٢٠) کی داغ بیل ڈالی۔ جس نے ہندو مسلم اتحاد اور فرقہء گاندھویہ پر مبنی تمام تحریکات کی پرزور تردید فرمائی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں