علوم قرآن سے متعلق ترجمۂ قرآن کی بابت محدّثِ اعظم ہند علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
علم القرآن کا اندازہ اگر صرف اعلیٰ حضرت کے اردو ترجمہ سے کیجیے، جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی کوئی مثالِ سابق نہ عربی زبان میں ہے ، نہ فارسی میں اور نہ اردو میں ، جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اس جگہ لایا نہیں جا سکتا ، جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر در حقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن ہے ، اس ترجمہ کی شرح حضرت صدر الافاضل استاذ العلماء مولانا شاہ نعیم الدین علیہ الرحمہ نے حاشیہ پر لکھی، وہ فرماتے تھے کہ دورانِ شرح مجھے ایسا کٸ بار ہوا کہ اعلیٰ حضرت کے استعمال کردہ لفظ کے مقامِ استنباط کی تلاش میں دن پر دن گزرے اور رات کٹتی رہی اور بلآخر ماخذ ملا تو ترجمہ کا لفظ ہی اٹل نکلا ۔
اعلیٰ حضرت خود شیخ سعدی کے فارسی ترجمہ کو سراہا کرتے تھے، لیکن اگر حضرت سعدی اردو زبان کے اس ترجمہ کو پاتے تو فرما ہی دیتے کہ "ترجمۂ قرآن شے دیگرست و علم القرآن شے دیگر ۔
تفسیر قرآن پر بھی آپ نے کام کیا تھا لیکن سورہ ”والضحی “ کی بعض آیات کی تفسیر اسّی ٨٠ اجزا (چھ سو سے زائد صفحات ) پر پھیل گٸ ، پھر دیگر ضروری مصروفیات نے اس کام کی مہلت نہ دی، فرماتے ہیں ” زندگیاں ملتیں تو تفسیر لکھتے یہ ایک زندگی تو اس کے لۓ کافی نہیں “۔
فقہی جزئیات پر عبورِ کامل کی روشن دلیلیں انکے فتاوی سے ظاہر ہیں ، حق یہ ہے کہ آپ کے دور میں عرب و عجم کے علماء مسائلِ شریعت میں آپ کے استحضارِ علمی کو دیکھ کر حیران رہے، مولوی ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں :
حرمین شریفین کے قیام کے زمانہ میں بعض رسائل بھی لکھے اور علماۓ حرمین نے بعض سوالات کیے تو ان کے جواب بھی تحریر کیے اور ذہانت کو دیکھ کر سب حیران و ششدر رہ گۓ ۔
آپ کی وسعتِ نظر ،جودتِ فکر ، ذہنِ ثاقب اور راۓ صائب نے آپ کو اپنے دور میں پوری دنیا کا مرکز اور مرجعِ فتاوی بنا دیا تھا، آپ کے یہاں متحدہ ہندوستان کے علاوہ برما ، چین ، امریکہ ، افغانستان ، افریقہ ، اور حجازِ مقدس وغیرہا سے بکثرت استفتاء آتے اور ایک ایک وقت میں پانچ پانچ سو ٥٠٠ جمع ہو جاتے تھے، ان سب کا جواب نہایت فراخ دلی اور خلوص و للّٰہیت سے دیا جاتا تھا اور کبھی کسی فتوی پر اجرت نہیں لی جاتی تھی اور نہ ہی کہیں سے تنخواہ مقرر تھی، کیونکہ یہ آپ کے خاندان کا طرّہ امتیاز رہا ہے ۔
آپ کے فتاوی سے متاثر ہو کر بڑے بڑے علّامۂ وقت اتنالکھ چکے ہیں کہ ان کو جمع کیا جاۓ تو ضخیم کتاب بن جاۓ ۔آپ کے بعض عربی فتاوی کو ملاحظہ فرمانے کے بعد محافظِ کتبِ حرم سیّد اسماعیل خلیل نے لکھا اور کیا خوب لکھا:
"واللہ ! اقول والحق اقول : لو رأھا أبو حنیفة النعمان لأقرّت عینہ ویجعل مٶلّفة من جملة الأصحاب"، قسم کھا کر کہتا ہوں اور حق کہتا ہوں کہ اگر ان فتاوی کو امامِ اعظم ابو حنیفہ ملاحظہ فرماتے تو انکو خوشی ہوتی اور صاحب فتاوی کو اپنے شاگردوں میں شامل کر لیتے۔
آپ کو پچاس سے زیادہ علوم و فنون میں تبحّر حاصل تھا اور جس فن میں قلم اٹھایا تحقیقِ انیق کے دریا بہاۓ ، آپ نے پچاس سے زیادہ علوم و فنون پر تقریباً ایک ہزار کتابیں تصنیف فرمائ ہیں ۔
📝 ماخوذ از: عـــــــــقائد و کلام

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں