ہفتہ، 19 جون، 2021

سیــــدی اعلیٰ حضرت کی نعت گوئی!

✍️ پیش کش:گل فضا فاطمہ اختری

❣️سیدی اعلی حضرت جہاں فقہی مہارت و علمی قابلیت میں اعلی مقام رکھتے ہیں، وہاں اپنی نعتیہ شاعری میں منفرد و متضاد نظر  آتے ہیں ۔آپ کا مشہور و منفرد نعتیہ کلام "حدائق بخشش" اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

          آپ کو اردو کی شاعری میں امامت کا درجہ حاصل ہے بلکہ عربی و فارسی میں بھی درجۂ امامت حاصل ہے ۔ اگر ایسے اساتذۂ فکر و فن کی فہرست تیار کی جائے جنہوں نے اس صدی میں ثناے مصطفٰی  ﷺ کا پرچم لہرانے والوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا تو ان میں یقیناً سر فہرست حضرت فاضل بریلوی کا اسم گرامی ہوگا جن کی نعت گوئی کا اعتراف اپنوں نے ہی نہیں بلکہ بیگانوں نے بھی کیا ہے ۔

         جس طرح عبادات کے لئے بہت سے آداب مقرر ہیں اسی طرح شاعری کے لئے بھی بہت سے قوانین ہیں جن کی حدود میں رہ کر شعر کہنا بڑا مشکل ہے، سیدی اعلی حضرت فرماتے ہیں : "حقیقتا نعت شریف کہنا بڑا مشکل کام ہے جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ہے اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے ۔ البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں صاف راستہ ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے، غرض حمد میں اصلا حد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب حد بندی ہے " ۔

         سیدی اعلی حضرت کی نعتیہ شاعری کا سورج جب ایک بار چمکا  تو پھر اس کی روشنی کبھی بھی ماند نہ پڑ سکی، بلکہ ہر آنے والے دور کا شاعر جب مدحتِ رسول ﷺ کی طرف ذہن و فکر کو آمادہ کرتا ہے تو آپ کے کلام سے رہنمائی حاصل کرتا ہے ۔

         نعت کہتے ہوئے کبھی بھی آپ ناامیدی کا شکار نہیں ہوتے آپ کا حضور ﷺ سے عشق و ارادت کا رشتہ اس قدر مضبوط اور مستحکم ہے کہ وہ راہِ حیات سے لے کر میدانِ محشر تک کہیں بھی مایوسی اور ناامیدی کو قریب نہیں آنے دیتا۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ نے جس ذات والا کو اپنا رہبر و رہنما مانا ہے یہ وہ ذات ہے کہ جس کے سر اقدس پر شفاعت کا نور آفریں تاج جگمگا رہا ہے جس کے ماتھے پر عفو و درگزر اور لطف و کرم کا جمال اپنی بہار دکھا رہا ہے۔اور  آپ کی نعتیہ شاعری کو وہ کمال حاصل ہوا کہ اج تک اس کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہو سکی ۔

          علماء فرماتے ہیں کہ جو عاشق رسولﷺ بننا چاہے اپنے دل میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت کو مزید بڑھانا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ اعلی حضرت کے نعتیہ دیوان "حدائق بخشش" کا مطالعہ کرے۔        

          📝 ماخوذ از:سیرت اعلیٰ حضرت

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں