ہفتہ، 19 جون، 2021

سیــــدی اعلیٰ حضرت اور فتویٰ نویسی!

✍️ پیش کش: مہوش اختری 
❣️ تکمیل تعلیم  کے بعد ہی والد ماجد نے فتوی نویسی کا کام اپنے فرزند ارجمند کے سپرد کردیا تھا، اور سات سال تک مسلسل والد محترم کی سرپرستی میں آپ نے فتاویٰ تحریر فرمائے ۔

خود فرماتے ہیں :۔

       رد وہابیہ اور افتا یہ دونوں ایسے فن ہیں کہ طب کی طرح یہ بھی صرف پڑھنے سے نہیں آتے ،ان میں بھی طبیب حاذق کے مطب میں بیٹھنے کی ضرورت ہے ،میں بھی ایک حاذق طبیب کے مطب میں سات برس بیٹھا ،مجھے وہ وقت وہ دن وہ جگہ وہ مسائل اور جہاں سے وہ آئے تھے اچھی طرح یادہیں ،میں نے ایک بار ایک نہایت پیچیدہ حکم بڑی کوشش وجانفشانی سے نکالا اور اسکی تائیدات مع تنقیح آٹھ ورق میں جمع کیں ،مگر جب حضرت والد ماجد قدس سرہ کے حضور میں پیش کیا تو انہوں نے ایک جملہ ایسا فرمادیا کہ اس سے یہ سب ورق رد ہوگئے ،وہی جملے اب تک دل میں پڑے ہوئے ہیں اور قلب میں اب تک اسکا اثر باقی ہے۔ 

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں :۔

            میں نے فتوی دینا شروع کیا ،اور جہاں میں غلطی کرتا حضرت قدس سرہ اصلاح فرماتے ،اللہ عزوجل انکے مرقد پاکیزۂ بلند کو معطر فرمائے ،سات برس کے بعد مجھے اذن فرمادیا کہ اب فتوی لکھوں اور بغیر حضور کو سنائے سائلوں کو بھیج دیا کروں ،مگر میں نے اس پر جرأت نہ کی یہاں تک کہ رحمن عزوجل نے حضرت والا کو۱۲۹۷ھ میں اپنے پاس بلالیا۔

                📝 ماخوذاز:الملــفوظ حصہ اول

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں