اس کم سنی میں آپ نے کتنے علوم و فنون کی سیر کی، اس کی تفصیل کے لیے آپ کی تصانیف پڑھے بغیر صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔
اجمالی طور پر اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ آپ نے پچاس ٥٠ سے زیادہ علوم و فنون پر اپنی چھوٹی بڑی تقریباً ایک ہزار ١٠٠٠ تصانیف یادگار چھوڑی ہیی جن کا قدرِ معتدبہ حصّہ منظرِ عام پر آ چکا ہےاور پوری دنیاۓ علم و فن سے خراجِ تحسین حاصل کر رہا ہے۔
آپ کے علم و فضل کا اعتراف صرف عقیدت مند اور مدحِ خواں حضرات ہی نہیں کرتے،مدارسِ اسلامیہ اور مساجد تک ہی آپ کے علمی کمالات کے چرچے محدود نہیں، محض منبر و اسٹیج ہی پر آپ کے فضل و کمال کا خطبہ نہیں پڑھا جاتا ہے، بلکہ اب ان تمام روایتی مجامع و محافل سے نکل کر آپ کےتبحرِ علمی کا ڈنکا پوری علمی دنیا میی بج رہا ہے، کالج اور یو نیورسٹیاں بھی آپ کی تحقیقاتِ نادرہ پر خراج عقیدت پیش کر رہی ہیں، پرو فیسر و لکچرار حضرات بھی آپ کے علمی کار ناموں پر ریسرچ اسکالروں سے "پی ایچ ڈی" کے مقالے لکھوا رہے ہیں۔ ہندو پاک سے لیکر جامعہ ازہر تک، بریطانیہ سے امریکہ تک پوری دنیا کے متعدّد تحقیقی مراکز سیکڑوں افراد کو "ایم فل" اور "پی ایچ ڈی" کی ڈگریاں دے چکے ہیں ۔ لیکن پھر بھی جو کچھ ہوا وہ آغاز باب ہے۔
ماہرینِ رضویات کا کہنا ہے کہ فردِ واحد نے اتنا بڑا کام کر دیا کہ پوری ملت اس کو سمیٹ نہیں پا رہی ہے ، جب کہ آج تک آپ کی سیرت و سوانح اور تحقیقی کاموں پر لکھی جانے والی کتابوں اور مقالوں کی تعداد بجاے خود ہزار ١٠٠٠ سے تجاوز کر چکی ہے۔
تمام علوم اسلامیہ میں اصل قرآن و حدیث کا علم ہےجس میں بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے مکمل اصول و قوانین موجود ہیں ۔امام احمد رضا محدث بریلوی نے بھی خاص طور پر پوری زندگی انہیں علوم کا سبق پڑھایا اور قوم مسلم کو غلط روی سے بچانے کے لیے انہیں علوم کے ذریعہ ہدایت کی راہیں ہموار کیں۔
آپ کا دور نہایت ناگفتہ حالات سے دوچار تھا ۔انگریزوں نے تفریق بین المسلمین کے لیے جو چال چلی تھی وہ پورے طور پر کامیاب ہوتی نظر آ رہی تھی، کچھ صاحبان جبہ و دستار کو خرید کر مسلمانوں کے قدیمی نظریات و عقائد کو مٹانے کی ناپاک سازش تیار کر چکے تھے جس کی لپیٹ میں پورا ہندوستان تھا۔
ہندوستان میں اسلاف کے نظریات سے ہٹانے کی سازش سب سے پہلے دہلی کے عظیم علمی گھرانے، خاندان شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ایک فرد مولوی محمد اسماعیل دہلوی کی رسوائے زمانہ کتاب " تقویۃ الایمان" کے ذریعہ کی گئی، پھر کسی نے امکان کذب کی بحث چھیڑ دی اور کسی نے ختم نبوت پر اجماع امت کے خلاف غلط توجیہات کر کے مقدمین و اسلاف کے عقائد صحیحہ کو جاہلانہ خیال لکھ دیا ۔کوئی حضور کے علم غیب کو جانوروں، بچوں اور پاگلوں کے علم سے تشبیہ دینے سے بھی نہ شرمایا۔اور کوئی دعوۂ نبوت کرکےان سب کو اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔
اس دور میں علمائے ملت اسلامیہ کے لیے ایک ایسے قافلۂ سالار کی ضرورت تھی جو ان سب کا مقابلہ کرے اور ان کی نقاب الٹ کر اصلی پوزیشن واضح کر دے جو رہبری کے بھیس میں رہزنی کر رہے تھے، ایسے نازک وقت میں خدا وندِ قدّوس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ایسا بطلِ جلیل اس ملت کو عطا فرمایا جو اپنی مثال آپ تھا۔
📝 ماخوذ از: جـــامع الاحـــادیث

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں