سیرت اعلی حضرت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سیرت اعلی حضرت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 23 جون، 2021

سیدی اعلی حضرت کی تصانیف!

✍️ پیش کش: اسما خانم اختری 
❣️مختلف علوم و فنون پر سیدی اعلی حضرت کی جن تصانیف کی فہرستیں اب تک تیار ہوئیں، ان میں سب سے طویل اور محتاط فہرست فاضل گرامی مرتبت حضرت مولانا عبد المبین صاحب نعمانی مد ظلہ کی مرتب کردہ ہے  جس کا اجمالی خاکہ اس طرح ہے ۔

 علوم و فنون      تعداد تصانیف 

01) علم تفسیر       015 

02) اصول تفسیر    001

03) رسم خط قرآن 001

04) حدیث            026

05) اسانید احادیث 003

06) اصول حدیث    006

07) تخریج احادیث 004  

08) جرح و تعدیل   002

09) اسماء الرجال    007

10) لغت حدیث      001

11) فقہ                235

12) اصول فقہ       007

13) رسم المفتی     003

14) فرائض            004

15) تجوید             004

16) عقائد و کلام     126

17) مناظرہ            007

18) فضائل             020

19) سیرت             004

20) مناقب             012 

21) تاریخ              003

22) تصوف            012

23) سلوک             002   

24) اذکار               009 

25) اخلاق             003

26) نصائح            003 

27) ملفوظات        005  

28) مکتوبات         002 

29) خطبات           002

30) ادب               001 

31) نحو               002

32) صرف             001         

33) لغت               001        

34) عروض           001    

35) تعبیر              001  

36) اوفاق             001      

37) تکسیر             008 

38) جفر                009

 کل تعداد               591


📝 ماخوذ از: جــــامع الاحـــادیث

ہفتہ، 19 جون، 2021

سیــــدی اعلیٰ حضرت اور فتویٰ نویسی!

✍️ پیش کش: مہوش اختری 
❣️ تکمیل تعلیم  کے بعد ہی والد ماجد نے فتوی نویسی کا کام اپنے فرزند ارجمند کے سپرد کردیا تھا، اور سات سال تک مسلسل والد محترم کی سرپرستی میں آپ نے فتاویٰ تحریر فرمائے ۔

خود فرماتے ہیں :۔

       رد وہابیہ اور افتا یہ دونوں ایسے فن ہیں کہ طب کی طرح یہ بھی صرف پڑھنے سے نہیں آتے ،ان میں بھی طبیب حاذق کے مطب میں بیٹھنے کی ضرورت ہے ،میں بھی ایک حاذق طبیب کے مطب میں سات برس بیٹھا ،مجھے وہ وقت وہ دن وہ جگہ وہ مسائل اور جہاں سے وہ آئے تھے اچھی طرح یادہیں ،میں نے ایک بار ایک نہایت پیچیدہ حکم بڑی کوشش وجانفشانی سے نکالا اور اسکی تائیدات مع تنقیح آٹھ ورق میں جمع کیں ،مگر جب حضرت والد ماجد قدس سرہ کے حضور میں پیش کیا تو انہوں نے ایک جملہ ایسا فرمادیا کہ اس سے یہ سب ورق رد ہوگئے ،وہی جملے اب تک دل میں پڑے ہوئے ہیں اور قلب میں اب تک اسکا اثر باقی ہے۔ 

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں :۔

            میں نے فتوی دینا شروع کیا ،اور جہاں میں غلطی کرتا حضرت قدس سرہ اصلاح فرماتے ،اللہ عزوجل انکے مرقد پاکیزۂ بلند کو معطر فرمائے ،سات برس کے بعد مجھے اذن فرمادیا کہ اب فتوی لکھوں اور بغیر حضور کو سنائے سائلوں کو بھیج دیا کروں ،مگر میں نے اس پر جرأت نہ کی یہاں تک کہ رحمن عزوجل نے حضرت والا کو۱۲۹۷ھ میں اپنے پاس بلالیا۔

                📝 ماخوذاز:الملــفوظ حصہ اول

سیــــدی اعلیٰ حضرت کا فضل و کمال!

✍️ پیش کش:علوینا مہک تحسینی
❣️اعلی حضرت امام احمد رضا قدّس سرّہ نے جملہ علوم و فنون کی تکمیل چودہ ١٤ سال کی عمر تک کر لی تھی۔

       اس کم سنی میں آپ نے کتنے علوم و فنون کی سیر کی، اس کی تفصیل کے لیے آپ کی تصانیف پڑھے بغیر صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔

         اجمالی طور پر اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ آپ نے پچاس ٥٠ سے زیادہ علوم و فنون پر اپنی چھوٹی بڑی تقریباً ایک ہزار ١٠٠٠ تصانیف یادگار چھوڑی ہیی جن کا قدرِ معتدبہ حصّہ منظرِ عام پر آ چکا ہےاور پوری دنیاۓ علم و فن سے خراجِ تحسین حاصل کر رہا ہے۔

       آپ کے علم و فضل کا اعتراف صرف عقیدت مند اور مدحِ خواں حضرات ہی نہیں کرتے،مدارسِ اسلامیہ اور مساجد تک ہی آپ کے علمی کمالات کے چرچے محدود نہیں، محض منبر و اسٹیج ہی پر آپ کے فضل و کمال کا خطبہ نہیں پڑھا جاتا ہے، بلکہ اب ان تمام روایتی مجامع و محافل سے نکل کر آپ کےتبحرِ علمی کا ڈنکا پوری علمی دنیا میی بج رہا ہے، کالج اور یو نیورسٹیاں بھی آپ کی تحقیقاتِ نادرہ پر خراج عقیدت پیش کر رہی ہیں، پرو فیسر و لکچرار حضرات بھی آپ کے علمی کار ناموں پر ریسرچ اسکالروں سے "پی ایچ ڈی" کے مقالے لکھوا رہے ہیں۔ ہندو پاک سے لیکر جامعہ ازہر تک، بریطانیہ سے امریکہ تک پوری دنیا کے متعدّد تحقیقی مراکز سیکڑوں افراد کو "ایم فل" اور "پی ایچ ڈی" کی ڈگریاں دے چکے ہیں ۔ لیکن پھر بھی جو کچھ ہوا وہ آغاز باب ہے۔

        ماہرینِ رضویات کا کہنا ہے کہ فردِ واحد نے اتنا بڑا کام کر دیا کہ پوری ملت اس کو سمیٹ نہیں پا رہی ہے ، جب کہ آج تک آپ کی سیرت و سوانح اور تحقیقی کاموں پر لکھی جانے والی کتابوں اور مقالوں کی تعداد بجاے خود ہزار ١٠٠٠ سے تجاوز کر چکی ہے۔

        تمام علوم اسلامیہ میں اصل قرآن و حدیث کا علم ہےجس میں بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے مکمل اصول و قوانین موجود ہیں ۔امام احمد رضا محدث بریلوی نے بھی خاص طور پر پوری زندگی انہیں علوم کا سبق پڑھایا اور قوم مسلم کو غلط روی سے بچانے کے لیے انہیں علوم کے ذریعہ ہدایت کی راہیں ہموار کیں۔

        آپ کا دور نہایت ناگفتہ  حالات سے دوچار تھا ۔انگریزوں نے تفریق بین المسلمین کے لیے جو چال چلی تھی وہ پورے طور پر کامیاب ہوتی نظر آ رہی تھی، کچھ صاحبان جبہ و دستار کو خرید کر مسلمانوں کے قدیمی نظریات و عقائد کو مٹانے کی ناپاک سازش تیار کر چکے تھے جس کی لپیٹ میں پورا ہندوستان تھا۔

      ہندوستان میں اسلاف کے نظریات سے ہٹانے کی سازش سب سے پہلے دہلی کے عظیم علمی گھرانے، خاندان شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ایک فرد مولوی محمد اسماعیل دہلوی کی رسوائے زمانہ کتاب " تقویۃ الایمان"  کے ذریعہ کی گئی، پھر کسی نے امکان کذب کی بحث چھیڑ دی اور کسی نے ختم نبوت پر اجماع امت کے خلاف غلط توجیہات کر کے مقدمین و اسلاف کے عقائد صحیحہ کو جاہلانہ خیال لکھ دیا ۔کوئی حضور کے علم غیب کو جانوروں، بچوں اور پاگلوں کے علم سے تشبیہ دینے سے بھی نہ شرمایا۔اور کوئی دعوۂ نبوت کرکےان سب کو اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔

      اس دور میں علمائے ملت اسلامیہ کے لیے ایک ایسے قافلۂ سالار کی ضرورت تھی جو ان سب کا مقابلہ کرے اور ان کی نقاب الٹ کر اصلی پوزیشن واضح کر دے جو رہبری کے بھیس میں رہزنی کر رہے تھے، ایسے نازک وقت میں خدا وندِ قدّوس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ایسا بطلِ جلیل اس ملت کو عطا فرمایا جو اپنی مثال آپ تھا۔ 

             📝 ماخوذ از: جـــامع الاحـــادیث

بدھ، 16 جون، 2021

سیدی اعلیٰ حضرت اور واقعہ مجـدّدیت!

 
✍️ پیش کش: مدیحہ منیر بریلوی
❣️مولانا حسنین رضا خانصاحب لکھتے ہیں:۔

          " اعلیٰ حضرت قبلہ کے فیضانِ مجدّدیت کا ظہور ۱۳۰۱ھ کے آغاز سے ہوا، یہ واقعہ ذرا تفصیل طلب ہے!

      واقعــہ: یہ ہے کہ ہمارے چچا مولوی محمد شاہ خاں صاحب عرف نتھن خاں صاحب مرحوم سوداگران محلّہ کے قدیمی باشندے تھے، اعلیٰ حضرت سے عمر میں ایک سال بڑے تھے، بچپن ساتھ گزارا، ہوش سنبھالا تو ایک ہی جگہ نشست و برخاست رہی، ایسی حالت میں آپس میں بے تکلفی ہونا ہی تھی، اعلیٰ حضرت قبلہ ان کو "نتھن بھائی جان" کہتے تھے اور ان کے ایک سال بڑے ہونے کا بڑا لحاظ فرماتے تھے، یہ بھی اکثر سفر و حضر میں ساتھ ہی رہتے، آدمی ذی علم تھے، گھر کے خوش حال، زمین دار تھے، یہاں تک کہ ندوہ کے مقابلہ میں جب اعلیٰ حضرت قبلہ نے بہار و کلکتہ کا سفر کیا تھا تو نتھن میاں بھی ساتھ رہے، میں نے اپنے ہوش سے انہیں اعلیٰ حضرت قبلہ کی صحبت میں خاموش اور مودّب ہی بیٹھے دیکھا، انہیں اگر مسئلہ دریافت کرنا ہوتا تو دوسروں کے ذریعہ سے دریافت کراتے، میں مدتوں سے یہ ہی دیکھ رہا تھا، ایک روز میں نے چچا سے عرض کیا کہ اعلیٰ حضرت تو آپ کی بزرگی کا لحاظ کرتے ہیں آپ ان سے اس قدر کیوں جھجھک محسوس کرتے ہیں کہ مسئلہ خود نہیں دریافت کرتے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم اور وہ بچپن سے ساتھ رہے، ہوش سنبھالا تو نشست و برخاست ایک ہی جگہ ہوتی، نمازِ مغرب پڑھ کر ہمارا معمول تھا کہ ان کی نشست گاہ میں آ بیٹھتے، سیّد محمود شاہ صاحب وغیرہ چند ایسے احباب تھے کہ وہ بھی اس صحبت کی روزانہ شرکت کرتے، عشا تک مجلس گرم رہتی، اس مجلس میں ہر قسم کی باتیں ہوتی تھیں، علمی مذاکرے ہوتے تھے، دینی مسائل پر گفتگو ہوتی اور تفریحی قصّے بھی ہوتے، جس دن محرّم ۱۳۰۱ھ کا چاند ہوا، اس دن حسبِ معمول ہم سب بعد مغرب اعلیٰ حضرت کی نشست گاہ میں آگۓ۔

      اعلیٰ حضرت خلاف معمول کسی قدر دیر سے پہنچے، حسبِ معمول السلام علیکم کے بعد تشریف رکھی، اور لوگ بھی تھے، مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ نتھن بھائی جان آج ۱۳۰۱ھ کا چاند ہو گیا، میں نے عرض کیا کہ میں نے بھی دیکھا، بعض اَور ساتھیوں نے چاند دیکھنا بیان کیا، اس پر فرمایا کہ بھائی صاحب یہ تو صدی بدل گئ، میں نے بھی عرض کیا: صدی تو بیشک بدل گئ، خیال کیا تو واقعی اس چاند سے چودہویں صدی شروع ہوئ تھی، اس پر فرمایا کہ اب ہم اور آپ کو بھی بدل جانا چاہیے، یہ فرمانا تھا کہ ساری مجلس پر ایک سکوت طاری ہو گیا اور ہر شخص اپنی جگہ بیٹھا رہ گیا، پھر کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہوئی، کچھ دیر سب خاموش بیٹھے رہے، اور السلام علیکم کر کے سب فرداً فرداً چلنے لگے، اس وقت تو کوئی بات سمجھ ہی نہ آئی کہ یکایک اس رعب چھا جانے کا سبب کیا ہوا، دوسرے روز بعد فجر جب سامنا ہوا اور ان کے مجدّدانہ رعب و جلال سے واسطہ پڑا تو یاد آیا  کہ انہوں نے جو بدلنے کو فرمایا تھا تو وہ خدا کی قسم ایسے بدلے کہ کہیں سے کہیں پہنچ گئے، اور ہم جہاں تھے وہیں رہے، وہ دن ہے اور آج کا دن کہ ہمیں ان سے بات کرنے کی ہمت ہی نہ ہوئی، بلکہ اس اہم تبدیلی پر ہم نے تنہائی میں  بارہا غور بھی کیا تو بجز اس کے کوئی بات سمجھ ہی میں نہ آئی کہ ان میں منجانب اللہ اس دن سے کوئی بڑی تبدیلی کر دی گئی ہے، جس نے انہیں بہت اونچا کر دیا ہے، اور ہم جس سطح پر پہلے تھے وہیں اب ہیں، ہاں جب دنیا انہیں "مجددالمأۃالحاضرہ" کے نام سے پکارنے لگی تو سمجھ میں آیا کہ وہ تبدیلی یہ تھی جس نے ہمیں اتنے روز حیران ہی رکھا، یہ تھی وہ تاریخ جس میں انہیں موجودہ صدی کا مجدّد بنایا گیا اور مجدّدیت کا منصبِ جلیل عطا ہوا، اور ساتھ ہی ساتھ وہ رعب عطا ہوا جو اسی تاریخ سے محسوس ہونے لگا، باوجودیکہ ہمیں بے تکلفی کے  لیل و نہار اب تک یاد ہیں مگر رعبِ حق برابر روز افزوں ہے جو ان کے مدارج کی مزید ترقی کی دلیل ہے"۔

      📝 ماخوذ از: عقــــــــائد و کلا (مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی)

سیــــدی اعلیٰ حضرت کا عشـــــق رسول ﷺ!

✍️ پیش کش: نغمہ ثقلینی اختری
   ❣️ضیاء المشائخ حضرت محمد ابراہیم فاروقی محمد مجددی شور بازار کابل افغانستان کا ایمان افروز تاثر ہے کہ "مولانا احمد رضا خاں قادری حضرت خاتم النبیین ﷺ کے عاشق صادق اور آں حضور کی محبت میں سر شار تھے۔

      ان کا دل عشق محمدی کے سوز سے لبریز تھا، چنانچہ ان کے نعتیہ کلام اور نغمات اس حقیقت پر شاہد عدل ہیں اور مولانا کے کلام نے مسلمان مردوں اور عورتوں کے دلوں کو عشق محمد ﷺ کے مقدس نور سے روشن کر دیا ہے۔

      جناب ڈاکٹر جمیل جالبی (وائس چانسراے کراچی یونیورسٹی) فرماتے ہیں: "مولانا احمدرضا خان بریلوی کا امتیازی وصف جو دوسرے تمام فضائل و کمالات سے بڑھ کر ہے وہ ہے عشق رسول ﷺ۔

      اور حضرت صاحب زادہ ہارون رشید ارشاد فرماتے ہیں اعلی حضرت احمدرضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ کا ہر قول اورہر فعل عشق رسول ﷺ سے اس طرح لبریز معلوم ہوتا ہے گویا کہ خالق کل نے آپ کو احمد مختار ﷺ کے عاشقوں کیلے شمع ہدایت بنایا ہے تاکہ یہ مشعل اس جادہ پر چلنے والوں کو تکمیل ایمان کی منزل سے ہمکنار کر سکے۔

      جب کوئ صاحب حج بیت اللہ شریف کرکے اعلی حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ سرور کائنات ﷺ کی بارگاہ میں حاضری دی ۔اگر جواب اثبات میں ملتا آپ فوراً ان کےقدم چوم لیتے اور اگر جواب نفی میں ملتا  پھر مطلق تخاطب نہ فرماتے، ایک بار ایک حاجی صاحب خدمت میں حاضر ہوے حسب عادت کریمہ اعلی حضرت نے پوچھا کیا بار گاہ سرکار کائنات ﷺ میں حاضری ہوئ؟ وہ آبدیدہ ہو کر عرض کرنے لگے ہاں مگر صرف دو روز قیام رہا! اعلی حضرت نے ان صاحب کی قدم بوسی کی اور ارشاد فرمایا: وہاں کی تو دو سانسیں بہت ہیں آپ نے تو دو دن قیام فرمایاہے۔

     اعلی حضرت امام احمد رضا خاں نے دو مرتبہ حرمین طیبین کی زیارت فرمائ پہلی مرتبہ ہمراہ والد ماجد مولانا نقی علی خاں کے 1259ھ/ 1877ء کو، اور دوسری مرتبہ جب بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضر ہوے تو شوق دیدار کے ساتھ مواجہہ عالیہ میں درود شریف پڑھتے رہے، آپ کوامید تھی کہ ضرور سرکار ﷺ عزت افزائ فرمائیں گےاور زیارت جمال سے سرفراز فرمائیں گے لیکن پہلی شب تکمیل آرزو نہ ہو سکی اسی یاس و حسرت کے عالم میں ایک نعت کہی جس کا مطلع ہے:۔

وہ سوے لالہ زار پھرتے ہیں 

تیرے  دن اے بہار پرتے ہیں

    اور پہر مقطع میں اپنے متعلق بارگاہ رسالتﷺ میں عرض گزارہوتے ہیں:۔

کوئ کیوں پوچھے تیری بات رضا 

تجھ   سے  کتے  ہزار  پھرتے  ہیں

     مقطع عرض کرنا تھا بس قسمت جاگ اٹھی ارمانوں کی بہار آگئ، خوشیوں کے کھیت لہلہانے لگے، ہوائیں معطر ہوئیں، ایک مومن مسلمان کی مراد یوں پوری ہوگئ، کہ تمام رسولوں کے سر دار حضور ﷺ نے عالم بیداری میں اعلی حضرت کو اپنا دیدار نصیب فرمایا، سیدی اعلی حضرت حضور ﷺکے رخ انور کو دیکھتے ہی پکار اٹھے:۔

پیش نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بیقرار

روکئے   سر   کو   روکئے  ہاں یہی امتحان ہے

         اعلی حضرت امام احمد رضا کی شاعری آپ کے عشق رسول کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے، خود ہی ارشاد فرماتے ہیں۔جب سرکار اقدسﷺکی یاد تڑپاتی ہے ۔تو میں نعتیہ اشعار سےبے قرار دل کو تسکین دیتا ہوں ورنہ شعر و سخن میرا مذاق طبع نہیں۔

            📝 ماخوذ از:سوانح اعلی حضرت

سیــــدی اعــــلٰی کی بیعت و خلافت!

✍️ پیش کش: ندا خــــــانم
❣️ ایک روز اعلیٰ حضرت قبلہ کسی خیال میں روتے روتے سو گئے،اس لیے کہ قیلولہ (دوپہر کو لیٹنا جو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے)  اس خاندان میں اب تک رائج ہے، اعلیٰ حضرت قبلہ بھی اس سنت پر مدۃ العمر عامل رہے۔

      خواب میں اعلٰی حضرت کے دادا حضرت مولانا رضا خاں صاحب تشریف لائے اور فرمایا : وہ شخص عنقریب آنے والا ہے جو تمہارے اس درد کی دوا کرےگا، چنانچہ اس واقعہ کے دوسرے یا تیسرے روز تاج الفحول حضرت مولانا عبد القادر صاحب بدایونی علیہ الرحمہ تشریف لائے، اُن سے بیعت کے متعلق مشورہ ہوا اور یہ طے ہوا کہ جلد ہی مارہرہ شریف چل کر بیعت ہوجانا چاہئے، چنانچہ یہیں سے یہ تینوں حضرات مارہرہ شریف کو چل پڑے، (اعلٰی حضرت اور اُن کے والد ماجد اور مولانا عبد القادر صاحب) -

        جب اعلی حضرت مارہرہ شریف پہنچے اور آستانہ عالیہ برکاتیہ پر حاضری ہوئی اور وہاں کے صاحب سجادہ حضرت سیدنا و مولانا آل رسول سے اعلی حضرت قبلہ اور اُن کے والد ماجد کی پہلی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اعلی حضرت قبلہ کو دیکھتے ہی جو الفاظ فرمائے تھے وہ یہ ہیں : " آئیے ہم تو کئی روز سے آپ کے انتظار میں تھے" اعلٰی حضرت اور اُن کے والد ماجد بیعت ہوئے مرشد برحق نے تمام سلاسل کی اجازت عطا فرما کر تاج خلافت اعلی حضرت کے سر پر اپنے دست کرم سے رکھ دیا، یوں یہ خلش جس کے لئے اعلی حضرت روتے  تھے رب العزت نے نکال دی۔

       شریعت کی تعلیم و تربیت باپ سے ملی تھی اور طریقت کی تکمیل پیر و مرشد نے کرادی، اس وقت اعلی حضرت قدس سرہ شریعت و طریقت دونوں کے امام ہو گئے - زندہ باد اعلی حضرت زندہ باد!

      بعض مریدین جو اس وقت حاضر تھے حضرت سیدنا آل رسول قدس سرہ سے عرض کیا کہ حضور اس بچے پر یہ کرم کہ مرید ہوتے ہی تمام سلاسل کی اجازت و خلافت عطا ہو گئی، نہ ضروری ریاضت کا حکم ہوا، نہ چلہ کشی کرائی۔ اس کے جواب میں حضرت سیدنا آل رسول نے فرمایا کہ تم کیا جانو، یہ بلکل تیار آئے تھے اُنہیں صرف نسبت کی ضروت تھی تو یہاں آکر وہ ضرورت  بھی پوری ہو گئی۔یہ فرما کر  آب دیدہ ہو گئے اور فرمایا کہ رب العزت دریافت فرمائے گا کہ آل رسول تو دنیاں سے ہمارے لیے کیا لایا ؟تو میں احمد رضا کو پیش کروں گا -

      مارہرہ شریف: ضلع ایٹہ میں ایک قصبہ ہے اور اس میں سادات کرام کا یہ خاندان بلگرام شریف سے آکر آباد ہوا ہے، یہ حسنی و حسینی سادات قادری نسل سے ہیں اور نسبت بھی قادری ہے، اس خاندان  میں بڑے بڑے اولیائے کرام ہوئے، اعلٰی حضرت قبلہ کے مرشد سیدنا شاہ‌ آل رسول انہیں میں سے ایک تھے۔اُن کا اپنے دور کے اولیائے کرام میں شمار تھا۔علمائے کرام بدایوں بھی اُسی خاندان سے بیعت ہوئے اور علمائے کرام بریلی کو بھی اُسی دود مان پاک کی غلامی پر فخر ہے"۔         

                   📝 ماخوذ از: سیرت اعلیٰ حضرت

سیــــدی اعلیٰ حضرت کی اولاد امجاد!

✍️ پیش کش: طہرین فاطمہ 
❣️اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمٰن کا سلسلہ اولاد کچھ اس طرح ہے:۔

❣️١۔   مولانا حامد رضا خان

❣️٢۔   مولانا مصطفیٰ رضا خان

❣️٣۔   مصطفائی بیگم

❣️٤۔   کنیز حسن 

❣️٥۔   کنیز حسین

❣️٦۔   کنیز حسنین

❣️٧۔   مرتضائی بیگم

حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان کی اولاد:۔

❣️١۔   ابراہیم رضا خان  

❣️٢۔   حماد رضا خان

❣️٣۔   ام کلثوم 

❣️٤۔   کنیز صغریٰ 

❣️٥۔   رابعہ 

❣️٦۔   سلمیٰ

مولانا ابراہیم رضا خان عرف جیلانی میاں کی اولاد:۔

❣️١۔   ریحان رضا خان

❣️٢۔   تنویر رضا خان

❣️٣۔   اختر رضا خان

❣️۴۔   قمر رضا خان

❣️۵۔   منان رضا خان

❣️٦۔   سرفراز بیگم

❣️۷۔   سرتاج بیگم

❣️۸۔   دلشاد بیگم

حماد رضا خان کی اولاد:۔

❣️١۔   مسرت بی بی

❣️۲۔   نصرت بی بی 

❣️۳۔   حمید رضا خان

مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان کی اولاد:۔

❣️١۔   صاحبزادہ مرحوم 

❣️۲۔   نگار فاطمہ

❣️۳۔   انوار فاطمہ 

❣️۴۔   برکاتی بیگم

❣️۵۔   رابعہ بیگم 

❣️٦۔   ہاجرہ بیگم 

❣️٧۔   ساکرہ بیگم 

(صاحبزادہ مرحوم کمسنی میں ہی داغ مفارقت دے گۓ تھے)

                📝 ماخوذ از: حیات اعلیٰ حضرت

منگل، 15 جون، 2021

سیــــدی اعلیٰ حضرت کی اولاد امجاد!

✍️ پیش کش: طہرین فاطمہ 
❣️اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمٰن کا سلسلہ اولاد کچھ اس طرح ہے:۔

❣️١۔   مولانا حامد رضا خان

❣️٢۔   مولانا مصطفیٰ رضا خان

❣️٣۔   مصطفائی بیگم

❣️٤۔   کنیز حسن 

❣️٥۔   کنیز حسین

❣️٦۔   کنیز حسنین

❣️٧۔   مرتضائی بیگم

حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان کی اولاد:۔

❣️١۔   ابراہیم رضا خان  

❣️٢۔   حماد رضا خان

❣️٣۔   ام کلثوم 

❣️٤۔   کنیز صغریٰ 

❣️٥۔   رابعہ 

❣️٦۔   سلمیٰ

مولانا ابراہیم رضا خان عرف جیلانی میاں کی اولاد:۔

❣️١۔   ریحان رضا خان

❣️٢۔   تنویر رضا خان

❣️٣۔   اختر رضا خان

❣️۴۔   قمر رضا خان

❣️۵۔   منان رضا خان

❣️٦۔   سرفراز بیگم

❣️۷۔   سرتاج بیگم

❣️۸۔   دلشاد بیگم

حماد رضا خان کی اولاد:۔

❣️١۔   مسرت بی بی

❣️۲۔   نصرت بی بی 

❣️۳۔   حمید رضا خان

مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان کی اولاد:۔

❣️١۔   صاحبزادہ مرحوم 

❣️۲۔   نگار فاطمہ

❣️۳۔   انوار فاطمہ 

❣️۴۔   برکاتی بیگم

❣️۵۔   رابعہ بیگم 

❣️٦۔   ہاجرہ بیگم 

❣️٧۔   ساکرہ بیگم 

(صاحبزادہ مرحوم کمسنی میں ہی داغ مفارقت دے گۓ تھے)

                📝 ماخوذ از: حیات اعلیٰ حضرت

سیدی اعلی حضرت کی ازدواجی زندگی!

✍️ پیش کش: شـــرمین مشرف
❣️ مولانا حسنین رضا  خاں صاحب علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: "تعلیم مکمل ہو جانے کے بعد اعلیٰ حضرت قبلہ کی شادی کا نمبر آیا، ہمارے نانا فضل حسن صاحب کی منجھلی صاحبزادی سے نسبت قرار پائی، شرعی پابندیوں کے ساتھ شادی ہوگئی۔

      یہ ہماری محترمہ اماں جان رشتہ میں اعلیٰ حضرت قبلہ کی پھوپھی زادی تھیں،صوم و صلوٰۃ کی سختی سے پابند تھیں، نہایت خوش اخلاق، بڑی سیر چشم،انتہائی مہمان نواز ، نہایت متین و سنجیدہ بی بی تھیں ۔

      اعلیٰ حضرت قبلہ کے یہاں مہمانوں کی بڑی آمد رہتی تھی ، ایسا بھی ہوا ہے کہ عین کھانے کے وقت ریل سے مہمان اتر آئے اور جو کچھ کھانا پکنا تھا وہ سب پک چکا تھا، اب پکانے والیوں نے ناک بھوں سمیٹی ، آپ نے فوراً مہمانوں کیلئے کھانا اُتار کر باہر بھیج دیا اور سارے گھر کیلئے دال چاول یا کھچڑی پکنے کو رکھوا دی گئی کہ اس کا پکنا کوئی دشوار کام نہ تھا، جب تک مہمانوں نے باہر کھانا کھایا گھر والوں کیلئے کھانا تیار ہوگیا، کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی کہ کیا ہوا۔

      اعلی حضرت قبلہ کی ضروری خدمات وہ اپنے ہاتھ سے انجام دیتی تھیں، خصوصا اعلیٰ حضرت کے سر میں تیل ملنا یہ اُنکا روز مرہ کا کام تھا، جسمیں کم و بیش آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا پڑتا تھا اور اس شان سے تیل جزب کیا جاتا تھا کہ اُن کے لکھنے میں اصلا فرق نہ پڑے،یہ عمل اُن کا روزانہ مسلسل تا حیاتِ اعلیٰ حضرت برابر جاری رہا۔

      سارے گھر کا نظم اور مہمان نوازی کا عظیم بار بڑی خاموشی اور صبر استقلال سے برداشت کر گئیں، اعلیٰ حضرت قبلہ کے وصال کے بعد بھی کئی سال زندہ رہیں مگر اب بجز یاد الٰہی اُنہیں اور کوئی کام نہیں رہا تھا۔

    اعلیٰ حضرت قبلہ کے گھر کیلئے اُن کا انتخاب بڑا کامیاب تھا، رب العزت نے اعلیٰ حضرت قبلہ کی دینی خدمات کیلئے جو آسانیاں عطا فرمائی تھیں اُن آسانیوں میں ایک بڑی چیز امی جان کی ذاتِ گرامی تھی۔

       قرآن پاک میں رب العزت نے اپنے بندوں کو دعائیں اور مناجاتیں بھی عطا فرمائی ہیں تاکہ بندوں کو اپنے رب سے مانگنے کا سلیقہ آجائے،اُن میں سے ایک دعا یہ بھی ہے: "ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار" ترجمہ:اے ہمارے پرورگار! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور جہنم کے عذاب سے بچا"۔

       تودنیا کی بھلائی"سے بعض مفسرین نے ایک پاک دامن ہمدرد اور شوہر کی جاں نثار بیوی مراد لی ہے، ہماری اما جان عمر بھر اس دعا کا پورا اثر معلوم ہوتی رہیں۔اپنے ، دیوروں اور نندوں کی اولاد سے بھی اپنے بچوں جیسی محبت فرماتی تھیں، گھرانے کے اکثر بچے اُنہیں اماں جان ہی کہتے تھے، اب کہاں ایسی پاک ہستیاں۔رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھا و اعلیٰ بعلھا و ابنیھا ۔ 

                  📝 ماخوذ از: عقائد و کلام

سیــــدی اعلیٰ حضرت کی تعلیم و تربیت!

✍️ پیش کش: شبینہ یاسین اختری
❣️ آپ کی تعلیم کا آغاز ہوا تو پہلے ہی دن ایک عجیب واقعہ پیش آیا، استاذ محترم نے "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کے بعد جب حروف تہجی کی تختی پڑھانا شروع کی تو آپ تمام حروف پڑھ کر"لا" پر جاکر رک گے اور عرض کیا : الف اور لام تو میں پڑھ چکا، یہاں دوبارہ پڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا :جو تم نے الف کی صورت میں پڑھا وہ ہمزہ تھا، چوں کہ الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے لہذا اسکا تنہا تلفظ نہیی ہو سکتا! اب لام کے ساتھ ملا کر اسکو پڑھایا جا رہا ہے، عرض کی: پھر تو کسی بھی حرف کے ساتھ ملا کر پڑھا یا جا سکتا ہے، اس لام کی کیا خصوصیت تھی؟

       جدّ امجد حضرت علاّمہ رضا علی خانصاحب قبلہ علیہ الرحمہ بھی مجلس میی موجود تھے۔آپ نے فرمایا:الف اور لام میں صورت اور سیرت کے اعتبار سے ایک خاص مناسبت ہے۔

      صورۃً تو اس طرح کہ"لا"لکھا جاتا ہےجس میں دونوں کےشوشےایک طرح کے ہیں ،اور سیرۃً اس لیے کہ الف اور لام کا جب تلفظ  کروگے  تو ایک کو دوسرے کے قلب اور بیچ میں لکھو گے، لہذا دونوں میی قلبی تعلق ہے۔لفظ "الف"کےبیچ میی "ل"ہے اور"لام"کے بیچ میں "ا"  ہےیہ جواب دے کر جد‌ّامجد نےوفورِمسرت میں گلے سے لگا لیا،کیوں کہ وہ اپنی فراستِ ایمانی اور مکاشفہ روحانی سے یہ سمجھ گئے تھے کہ یہ بچہ آگےچل کر کچھ ہوگا۔

      قرآنِ کریم ناظرہ پڑھ رہے تھے کہ ایک دن استاذِ محترم نے کسی مقام پر کچھ اعراب بتایا،آپ نے استاذ کےبتانے کے خلاف پڑھا، انہوں نے دوبارہ کرخت آواز سے بتایا،آپ نےپھر وہی پڑھا جو‌ پہلے پڑھا تھا، آپ کے والد ماجد جو قریب ہی کے کمرے میی بیٹھے تھے انہوں نے سپارہ منگا کر دیکھا تو سپارہ میں استاذ کے بتانے کے موافق تھا۔ آپ بھی وہاں چوں کہ کتابت کی غلطی محسوس کر رہے تھے،لہذا آپ نے قرآن پاک منگایا، اس میں وہی اعراب پایاجو اعلی حضرت نے بار بار پڑھا تھا، باپ نے بیٹے سے دریافت کیا کہ تمہیں جو استاد بتاتے تھے وہی تمہارے سپارے میں بھی تھا،تم نے استاد کے بتانے کے بعد بھی نہیی پڑھا؟ اعلی حضرت نے عرض کیا:میں نے ارادہ کیا کہ اپنے استاذ کے بتانے کے موافق پڑھوں مگر زبان نے یارا نہ دیا۔اس پر آپ کے والد ماجد وفورِ مسرت سے آبدیدہ ہو گۓ اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اس بچہ کو "ما أنزل اللہ" کے خلاف پر قدرت ہی نہیی دی گئ ہے، یہی تھے آثار مجدّدیت۔

       ایک روز صبح کو بچے مکتب میں پڑھ رہے تھے،ان میں اعلی حضرت بھی شامل تھے ،ایک آنے والے بچے نے استاد کو ان الفاظ میں سلام کیا  "السلام علیکم"  استاد صاحب نے جواب میں کہا :جیتے رہو! آپ نے فوراً استاذ صاحب سے عرض کیاکہ یہ تو جواب نہ ہوا،انہوں نے پوچھا اسکا جواب کیا ہے؟اعلی حضرت نے عرض کیا:اس کا جواب"وعلیکم السلام"ہے، اس پر استاد بہت خوش ہوۓ اور دعائیں دیں۔

     چھو ٹی چھوٹی شرعی غلطیوں پر آپ بچپن ہی میی بلا  تکلف بول دیا  کرتے تھے ،ایسا معلوم ہوتا تھا کہ غلطی کی تصحیح قدرت ہی نے آپ کی عادتِ ثانیہ بنا دی تھی،چوں کہ آپ  سے آگے چل کر ربّ العزت کو یہی کام‌لینا تھا۔

     مولانا حسنین رضا خانصاحب قبلہ لکھتے ہیں:

      "آپ"مسلم الثبوت"پڑھ رہے تھے اور زیادہ رات تک مطالعہ کرتے تھے، جس مقام پر انکا سبق ہونے والا تھا، وہاں ان کے والد ماجد نے مولانا محب اللہ صاحب بہاری (مصنّفِ کتاب) پر ایک اعتراض کر دیا تھا جو انہوں نے حاشیہ پر درج کرکے  چھوڑ دیا تھا، جب اعلی حضرت قبلہ کی نظر اس اعتراض پر پڑی تو آپکی بانکی طبیعت میں یہ بات آئی کہ مصنف کی عبارت کو حل ہی اس طرح کیا جاۓ کہ اعتراض وارد ہی نہ ہو، آپ اس حل کو ایک بجے رات تک سوچتے رہے بالآخر تاںٔیدِ غیبی سے وہ ‌حل میں آگیا، آپ کو انتہائ مسرت ہوئی اور اس وفورِ مسرت میں بے اختیار آپ کے ہاتھوں سے تالی بج گئ، اس سے سارا گھر جاگ گیا اور کیا ہے ؟کیا ہے؟کا شور مچ گیا،تو آپ نے اپنے والدِ ماجد کو کتاب کی عبارت اور اس کا عام مطلب اور اس پر ان کا اعتراض سنانے کے بعد، آپ نے اپنی طرف سے اس عبارت کی ایک ایسی تقریر کی کہ وہ اعتراض ہی نا پڑا، اس پر باپ نے گلے سے لگایا اور فرمایا کہ "امن میاں تم مجھ سے پڑھتے نہیں بلکہ مجھے پڑھاتے ہو "_

     سیدی اعلی حضرت نے ابتدائی کتابیں پہلے استاذ سے پڑھیں، اور چار ٤ سال کی عمر میں قرآن ناظرہ ختم کیا، اسکے بعد " میزان و منشعب" تک  حضرت مولانا عبد القادر بیگ سے پڑھا۔ابتدائی تعلیم کے بعد والد ماجد نے آپ کی تعلیم اپنے ذمہ لے لی اور آخر تک درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔

    اسی دوران " شرحِ چغمینی " مولانا عبد العلی رامپوری ( ریاضی داں ) سے چھ ٦ ماہ وہاں رہ کر پڑھی۔

آپ فرماتے ہیں : حضور پر نور پیرو مرشد قدس سرّہ کو شامل کرکے چھ ٦ نفوسِ قدسیہ میرے استاذ ہوتے ہیں۔

     ان چھ٦ حضرات کے علاوہ حضور نے کسی کے سامنے زانوۓ ادب طے نہیں کیا، مگر خدا وندِ  عالم نے محض اپنے فضل وکرم اور آپ کی محنت اور خدا داد ذہانت کی وجہ سے اتنے علوم و فنون کا جامع بنایا کہ پچاس ٥٠ فنون میں حضور نے تصنیفات فرمائیں، اور علوم و معارف کے وہ دریا بہاۓ کہ خدام و معتقدین کا تو کہنا کیا، مخالفین مخالفتیں کرتے، اپنی سیاہ قلبی کی وجہ سے براںٔیاں کرتے، مگر ساتھ ساتھ ٹیپ کا بند یہ ضرور کہنے پر مجبور ہوتے کہ یہ سب کچھ ہے مگر مولانا احمد رضا خانصاحب قلم کے بادشاہ ہیں، جس مسٔلہ پر قلم اٹھا دیا نہ موافق کو ضرورت افزاںٔش، نہ مخالف کو دم زدن کی گنجائش ہوتی ہے۔

       پورے زمانہ طالب علمی میں کوئی کتاب بالاستیعاب مکمل نہ پڑھی، بلکہ والد صاحب جب یہ دیکھتے کہ امّن میاں مصنف کے طرز سے واقف ہو گۓ ہیں تو مشکل مقامات پر عبور کرانے کے بعد دوسری کتابیں شروع کرا دیتے، اس طرح قلیل مدت میں آپ نے تمام درسی کتب کو مکمل کر لیا اور ١٣ سال دس ١٠ ماہ چار ٤ دن کی عمر شریف میں ١٤ شعبان المعظّم ١٢٨٦ ھ کو فارغ التحصیل ہو گۓ۔

                  📝 ماخوذ از: عقائد و کلام

سیــــدی اعلیٰ حضرت کا عہد طفلی!

✍️ پیش کش:حـــرم نوری بریـلوی
❣️ آپ کا بچپن نہایت ناز و نعم میں گزرا، فطری طور پر ذہین تھے اور حافظہ نہایت قوی و قابلِ رشک پایا تھا، کبھی بچوں کے ساتھ نہ کھیلتے۔

      محلہ کے بچے کبھی کھیلتے ہوئے گھر آ جاتے تو آپ ان کے کھیل میں کبھی شریک نہ ہوتے بلکہ ان کے کھیل کو دیکھا کرتے۔

       طہارتِ نفس، اتباعِ سنت، پاکیزہ اخلاق اور حسنِ سیرت جیسے اوصاف آپ کی ذات میں بچپن ہی سے ودیعت تھے آپ کی زبان کھلی تو صاف تھی، عام طور پر بچوں کی طرح کج مج نہ تھی، غلط الفاظ آپ کی زبان پر کبھی نہ آئے اور نہ کسی نے سنے‌۔

     امام احمد رضا قدس سرہ نے خود فرمایا:

میں اپنی مسجد کے سامنے کھڑا تھا، اس وقت میری عمر ساڑے تین سال ہوگی ، ایک صاحب اہلِ عرب کے لباس میں ملبوس جلوہ فرما ہوئے، یہ معلوم ہوتا تھا کہ عربی ہیں، انہوں نے عربی زبان میں مجھ سے گفتگو بھی فرمائی ، میں نے ان کی زبان میں ان سے گفتگو کی، میں نے ان بزرگ ہستی کو پھر کبھی نہ دیکھا۔

      ایک مرتبہ طفولیت کے زمانہ میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے اعلی حضرت قدس سرہ کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور کئ بار دیکھنے کے بعد فرمایا: تم رضا علی خان صاحب کے کون ہو؟ آپ نے جواب دیا : میں ان کا پوتا ہوں! فرمایا: جبھی ، اور فوراً تشریف لے گئے! ۔ 

                 📝 ماخوذ از: جـــامع الاحـــادیث

سیــــدی اعلیٰ حضرت کی ولادت باسـعادت!

✍️ پیش کش: امــــرین انصاری
❣️ ١٠ شوّال المکرم ١٢٧٢ھ/ ١٤ جون ١٨٥٦ء بروز شنبہ بوقتِ ظہر بمقام محلّہ جسولی بریلی (انڈیا) میں ہویٔ-

            آپ کے اَجداد میں سعید اللہ خاں شجاعت جنگ بہادر پہلے شخص ہیں جو قندھار سے ترکِ وطن کرکے ہندوستان آئے اور لاہور کے شیش محل میں قیام فرمایا-

       امام احمد رضا قدس سرّہٗ نے اپنی سنِ ولادت کا استخراج اس آیت کریمہ سے فرمایا:"اُوْلٰئِکَ کَتَبَ فِیْ قّلُوْبِھِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ" -

      اس آیتِ کریمہ میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اللہ ورسول کے دشمنوں کو کبھی اپنا دوست نہیں بناتے اور اپنا رشتہ ایمانی اسی وقت مضبوط و مستحکم جانتے ہیں جب اعداۓ دین سے کھلم کھلا عداوت و مخالفت کا اعلان کریں، اگرچہ وہ دشمنانِ دین ان کے باپ دادا ہوں خواہ اولاد اور دیگر عزیز و اقارب ہوں، جب کسی مؤمن کا ایمان ایسا قوی ہو جاتا ہے تو اس کے لیے وہ بشارت ہے جو مندرجہ بالا آیتِ کریمہ میں بیان فرمائی گئی ہے۔

      سیّدی اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرّہٗ کی پوری حیاتِ مقدّسہ اس کا آئینہ تھی،حسنِ اتفاق کہ اعلی حضرت جس ساعت میں پیدا ہوۓ اس وقت آفتاب منزل غفر میں تھا جو اہلِ نجوم کے یہاں مبارک ساعت ہے، اعلٰی حضرت نے خود بھی اس کی طرف یوں ارشاد فرمایا ہے:

دنیا  ہزار  حشر  جہاں  ہیں غفور  ہیں

ہر منزل اپنے ماہ کی منزل غفر کی ہے

             📝 ماخوذ از: عـــــقائد و کلام

سیــــدی اعلی حضرت کے متعلق بزرگوں کی پیشین گوئیاں!

✍️ پیش کش: زیبا فاطمہ بریلوی 
       ❣️جناب سید ایوب علی صاحب کا بیان ہے کہ "جس وقت اعلی حضرت بطن مادر میں تھے، آپ کے والد ماجد نے ایک بہت ہی عجیب خواب دیکھا جس کی وجہ سے کچھ پریشانی سی لاحق ہوئ رات بھر اس خواب کی فکر میں رہے اور صبح اٹھے تو بھی اس کی تشویش باقی تھی، صبح کو اپنے والد علامہ رضا علی خاں کو خواب بتایا تو علامہ رضا علی خاں نے فرمایا: "بہت مبارک خواب ہے بشارت ہو کہ پروردگار عالم تم کو ایک فرزند عطا فرمائے گا جو علم کے دریا بہائے گا جس کا شہرہ مشرق و مغرب میں پھیلے گا۔ 
    ❣️جناب سید ایوب علی صاحب فرماتے تھے کہ" ایک مرتبہ محلہ سوداگران کی مسجد کے قریب آپ کی طفولیت کے زمانے میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئ انہوں نے اعلی حضرت کو سر سے پاؤں تک بغور دیکھا اور کئی بار دیکھا پھر فرمایا: تم رضا علی خاں کے کون ہو ؟ اعلی حضرت نے جواب دیا : میں ان کا پوتا ہوں, تو ان بزرگ نے فرمایا "جبھی" اور چلے گئے، علماء فرماتے ہیں: ان بزرگ کا مقصد یہ تھا کہ جبھی آپ کے اندر ایسی صفات ہیں کہ آپ بہت بڑے عالم بنیں گے۔
     ❣️جناب علی محمد خاں صاحب جو کہ اعلی حضرت کے بھانجے ہیں فرماتے ہیں کہ: میری والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ: ایک روز کسی نے دروازہ پر آ کر آواز دی تو اعلی حضرت (اس وقت آپ کی عمر دس برس تھی)  باہر تشریف لے گئے، دیکھا کہ ایک بزرگ فقیر منش کھڑے ہیں آپ کو دیکھتے ہی فرمایا: آؤ! آپ تشریف لے گئے پھر ان بزرگ نے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا تم بہت بڑے عالم بنوگے۔
      ❣️مولوی عرفان علی صاحب قادری رضوی بیسلپوری کا بیان ہے: کہ ایک مرتبہ حضور نے ارشاد فرمایا: کہ میں اپنی مسجد کے سامنے کھڑا تھا اس وقت میری عمر ساڑھے تین سال کی ہوگی، ایک صاحب اہل عرب کے لباس میں ملبوس جلوہ فرما ہوئے یہ معلوم ہوتا تھا کہ عربی ہیں انہوں نے مجھ سے عربی زبان میں گفتگو فرمائی میں نے ان سے فصیح عربی میں گفتگو کی اس بزرگ ہستی کو پھر کبھی نہ دیکھا۔ تین سال کی عمر میں ان بزرگ کا آپ سے گفتگو فرمانا یقیناً اس بات کی پیش گوئی تھی کہ آپ عربی زبان میں بھی نہایت فصیح و بلیغ اور ہر فن میں ماہر ہونگے۔
    ❣️ملفوظات حصہ چہارم میں ہے کہ بریلی میں ایک مجذوب بشیر الدین آخونرزادہ کی مسجد میں رہا کرتے تھے، جو کوئی ان کے پاس جاتا کم سے کم پچاس گالیاں سناتے اعلی حضرت فرماتے ہیں مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا شوق ہوا، ایک روز رات کے گیارہ بجے میں اکیلا ان کے پاس جا پہنچا اور فرش پر جا کر بیٹھ گیا وہ حجرے میں چارپائی پر بیٹھے تھے مجھ کو بغور پندرہ بیس منٹ تک دیکھتے رہے  آخر مجھ سے پوچھا تم مولوی رضا علی خاں کے کون ہو؟  میں نے کہا میں ان کا پوتا ہوں فوراً وہاں سے جھپٹے اور مجھ کو اٹھا کر لے گئے اور چارپائی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا آپ یہاں تشریف رکھیے، اور مجھ سے پوچھا کہ کیا مقدمہ کے لیے آئے ہو میں نے کہا مقدمہ تو ہے لیکن میں اس کے لیے نہیں آیا ہوں میں تو صرف دعائے مغفرت کے لئے حاضر ہوا ہوں ہو,  تو وہ قریب آدھے گھنٹے تک برابر کہتے رہے اللہ کرم کرے! اللہ کرم کرے! اللہ کرم کرے! اللہ رحم کرے! اللہ رحم کرے!، اس کے بعد میرے منجھلے بھائی مولوی حسن رضا خاں ان کے پاس مقدمہ کی غرض سے حاضر ہوئے ان سے خود ہی پوچھا کہ مقدمہ کے لئے آئے ہو عرض کیا جی ہاں! فرمایا مولوی صاحب سے کہنا قرآن شریف میں یہ بھی تو ہے "نصر من اللہ و فتح قریب" بس دوسرے دن ہی مقدمہ فتح ہو گیا۔ ان بزرگ کا عام انسانوں کو گالی بکنا اور سیدی اعلی حضرت کی اتنی تعظیم کرنا کہ ان کو چارپائی پر بٹھانا خود نیچے بیٹھنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ مجذوب امت کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ یہ بچہ آگے چل کر زمانے کا مجدد اور دین کا بہت بڑا عالم بنے گا۔
📝 ماخوذ از: حیات اعلی حضر (مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی)

پیر، 14 جون، 2021

سیــــدی اعــــلٰی حضرت کے آباؤ اجداد !

✍️ پیش کش: ام نور رضویہ 
❣️اعلیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ کے آباؤ اجداد قندھار کے قبیلہ بڑہیج کے پٹھان تھے مغلیہ دور میں وہ لاہور آئے اور معزز عہدوں پر فائز ہوئے۔ لاہور کا شیش محل انہیں کی جاگیر تھا پھر وہاں سے دہلی آئے اور یہاں بھی معزز عہدوں پر ممتاز ہوئے۔

   چنانچہ حضرت محمد سعید اللہ خاں شیش ہزاروی عہدہ پر فائز تھے، انہیں شجاعت جنگ کا خطاب حاصل ہوا۔

  ❣️آپ کے فرزند سعادت یار خان کے تین صاحبزادے تھے:-

١- اعظم خان

۲- معظم خان

٣- مکرم خان

یہ سب ہی بڑے بڑے منصبوں پر فائز تھے۔

  ❣️حضرت اعظم خان بریلی شریف میں قیام فرما ہوئے اور زہد خالص اور ترک دنیا کو اختیار فرمایا اور وہیں وصال فرمایا آپ کا مزار مبارک بھی بریلی شریف میں ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ بھی ایک باکرامت ولی تھے۔ ایک مرتبہ آپ کے صاحبزادے حافظ محمد کاظم علی خاں رحمۃ اللہ علیہ والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ سخت کڑاکے کی سردی میں آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک دھوتی کے دھرے کے پاس تشریف فرما ہیں اور اس جاڑے میں جسم پر کوئ گرم پوشاک بھی نہیں چنانچہ آپ نے اپنا ایک قیمتی دوشالہ اتار کر اپنے والد ماجد کو اوڑھا دیا مگر حضرت اعظم خان رحمۃ اللہ علیہ نے کمال استغناء کا مظاہرہ فرمایا اور دوشالہ اتار کر آگ کے دھرے میں رکھ دیا، یہ دیکھ کر آپ کے صاحبزادے کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کاش! یہ دوشالہ کسی اور کو ہی دے دیا جاتا، ابھی دل میں اس خیال کا آنا تھا کہ والد ماجد اعظم خان رحمۃ اللہ علیہ نے اس آگ کے بھڑکتے دھرے میں سے دوشالہ کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا کاظم! فقیر کے یہاں دھکڑ پکڑ کا معاملہ نہیں ہے، آپ نے دوشالہ دیکھا تو اس دوشالہ میں آگ نے کچھ اثر نہ کیا تھا بلکہ ویسا ہی صاف شفاف برآمد ہوا۔

  ❣️حضرت کاظم علی خاں بھی شہر بدایوں کے تحصیلدار کے منصب پر فائز تھے،آپ کی جاگیر میں آٹھ گاؤں تھے اور دو سو سواروں کی فوج پر ہر وقت آپ کی خدمت میں حاضر رہتی تھی، آپ کے صاحبزادے کا نام مولانا رضا علی خان تھا۔.      

   ❣️حضرت مولانا رضا علی خان اپنے وقت کے زہدہ الکاملین قطب الوقت تھے، اور بزرگ ترین علمائے کرام میں سے تھے،فقہ و تصوف میں کامل مہارت کے حامل تھے، بہت پراثر وعظ فرمایا کرتے تھے، آپ رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے وقت کے ایک باکرامت ولی تھے۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ فتنہ ١۸٥۷ء کے بعد جب انگریزوں کا تسلط ہوا اور انہوں نے شدید مظالم کئے تو لوگ ڈر کے مارے پریشان پھرتے تھے، بڑے لوگ اپنے اپنے مکانات چھوڑ کر گاؤں وغیرہ چلے گئے، مگر حضرت مولانا رضا علی خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکان میں ہی تشریف فرما رہے، بلکہ پنج وقتہ نمازیں بھی مسجد میں ادا کرتے رہے، ایک دن آپ رحمۃ اللہ علیہ مسجد میں ہی تشریف فرما تھے کہ ادھر سے کچھ انگریزوں کا گزر ہوا انہوں نے خیال کیا کہ شاید مسجد میں کوئ مسلمان ہو تو اسے پکڑ کر ماریں،چنانچہ مسجد میں گھسے ادھر ادھر گھوم آئے مگر انہیں مسجد میں کوئ نظر نہ آیا حالانکہ حضرت مسجد میں ہی تشریف فرما تھے مگر یہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت تھی کہ مسجد میں ہوتے ہوئے بھی آپ ان لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہے،حضرت مولانا رضا علی خان کے فرزند، دلبند مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جو سیدی امام احمد رضا خان کے والد ماجد ہیں۔

   ❣️ مولانا نقی علی خان اپنے وقت کے تاج العلماء ہیں آپ رحمۃ اللہ علیہ کے خصائل جمیلہ بیان سے باہر ہیں، فراست صادقہ کے ساتھ ساتھ سخاوت و شجاعت، مروت، رواداری، بلند اخلاق و دبدبہ و جلال، کمالات و کرامات میں اپنی مثال آپ ہیں، سب سے بڑھ کر سلطان دو جہاں کی خدمت و غلامی، حضورﷺ سے عشق و محبت، حضورﷺ کے گستاخوں پر غضب و شدت میں کوئ کسر نہ اٹھا رکھی تھی،اور فتنہ مخالفین کا قلع قمع کردیا، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بےشمار تصانیف کے ذریعے مسلمانوں کو نفع پہنچانے اور مفسدین کے دفع کے لئے بے پایاں خدمات انجام دیں، غرض یہ کہ اپنی تمام تر قیمتی عمر اشاعت سنت و ازالہ بدعت میں صرف فرمائ۔

   ❣️آپ رحمۃ اللہ علیہ کی حسب ذیل اولادیں ہوئیں:-

١- اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان

۲- مولانا حسن رضا خان

٣- مولانا محمد رضا خان

ان کے علاوہ تین صاحبزادیاں بھی تولد ہوئیں!!!

📝 ماخوذ از: حیات اعلیٰ حضرت

سیــــدی اعــــلیٰ حضرت کا نام و نسب اور القاب!

✍️پیش کش: طاہرہ فاطمہ برکاتی
❣️نام:۔
     محمد، عرفی نام:احمد رضا خان، بچپن کے نام:امّن میاں، احمد میاں، تاریخی نام، المختار 1272ھ ۔
❣️سلسلۂ نسب:۔
             یوں ہے:امام احمد رضا خان، بن مولانا نقی علی خان، بن مولانا رضا علی خان، بن حافظ کاظم علی خان، بن محمد اعظم خان، بن سعادت یار خان، بن سعید اللہ خان ولی عہد ریاست قندھار افغانستان و شجاعت جنگ بہادر علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
❣️القاب:۔
        (1)اعلی حضرت   (2)امام اہل سنت  (3)مجدد المأۃ الحاضرہ    (4)موید الملۃ الطاہرہ    (5)صاحب الحجۃ القاہرہ    (6)عالم اہل سنت والجماعۃ   (7)برکۃ الزمان    (8)شمس العرفان   (9)علامۃ الزمان    (10)فخر الاعیان    (11)العلامۃ الکامل   (12)بحر الفضائل   (13)حامی السنّت   (14)ماحی البدعت   (15)الشیخ الکبیر   (16)فرید الدہر   (17)وحید العصر   (18)العلامۃ المحقق   (19)الفہامۃ المدقق   (20)تاج المفتیین    (21)سید العلماء الاعلام    (22)السید الفرد الإمام    (23)بقیۃ السلف   (24)حجۃ الخلف   (25)البحر المہمام   (26)برکۃ الآثار   (27)ناصر الملۃوالدین   (28)سعد الملۃ والدین   (29)شیخ الاسلام والمسلمين   (30)عمدۃ العلماء العاملين   (31)آیۃ من آیات اللہ   (32)حامل العلوم   (33)برکۃ اللہ فی الہند   (34)زینۃ العلم   (35)نائب المصطفی   (36)محی الشریعہ   (37)کاسر الفتنہ   (38)ناصر السنۃ   (39)قامع البدعۃ   (40)علامۂ فاضل   (41)عالم علامہ     (42)استاذ معظم    (43)عالم جلیل    (44)بحرزخار   (45)کثیر الاحسان    (46)دریائے بلند ہمت   (47)بحر ناپیدا کنار    (48)صاحب ذکاء    (49)کثیر الفہم   (50)عالم باعمل   (51)یکتائے زمانہ   (52)عظیم العلم    (53)دریاے معرفت   (54)محافظ فرائض   (55)محافظ واجبات    (56)محافظ سنن   (57)ماہر عربیت و حساب   (58)دریاے منطق    (59)وارث النبی   (60)عالی ہمم    (61)سردار مشاہیر    (62)ماہر افتخار فضلاء   (63)سعادت اسلام    (64)محمود سیرت   (65)صاحب عدل   (66)صاحب احسان   (67)مرکز دائرۂ علوم    (68)مطلع کواکب افلاک علوم    (69)نادر روزگار    (70)معتمد عالمان باعمل   (71)یادگار متقدمین   (72)فاضل متبحر    (73)دریاے وسیع   (74)بحر کامل    (75)عالم کثیر العلم    (76)دریاے عظیم الفہم    (77)پشت پناہ عمارت دین    (78)بالا ہمت    (79)صاحب عقل    (80)صاحب وجاہت    (81)صاحب جلالت    (82)انسان کامل   (83)سید المصنفین    (84)ملک العلما   (85)صاحب تنقیح و تحقیق    (86)صاحب تزئین و تدقیق   (87)غوث مسلمانان    (88)استاذ الاساتذہ    (89)امام وقت    (90)امام معظم    (91)امام الہند    (92)ابو الوقت   (93)مرشد برحق   (94)کاسر نجدی جنود    (95)لامع النور    (96)پردہ در کفر و ضلالت   (97)راسخ العلم    (98)پیشوائے اخیار    (99)چراغ زمان___! 
📝 ماخوذ از: حیات اعلی حضرت