چنانچہ حضرت محمد سعید اللہ خاں شیش ہزاروی عہدہ پر فائز تھے، انہیں شجاعت جنگ کا خطاب حاصل ہوا۔
❣️آپ کے فرزند سعادت یار خان کے تین صاحبزادے تھے:-
١- اعظم خان
۲- معظم خان
٣- مکرم خان
یہ سب ہی بڑے بڑے منصبوں پر فائز تھے۔
❣️حضرت اعظم خان بریلی شریف میں قیام فرما ہوئے اور زہد خالص اور ترک دنیا کو اختیار فرمایا اور وہیں وصال فرمایا آپ کا مزار مبارک بھی بریلی شریف میں ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ بھی ایک باکرامت ولی تھے۔ ایک مرتبہ آپ کے صاحبزادے حافظ محمد کاظم علی خاں رحمۃ اللہ علیہ والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ سخت کڑاکے کی سردی میں آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک دھوتی کے دھرے کے پاس تشریف فرما ہیں اور اس جاڑے میں جسم پر کوئ گرم پوشاک بھی نہیں چنانچہ آپ نے اپنا ایک قیمتی دوشالہ اتار کر اپنے والد ماجد کو اوڑھا دیا مگر حضرت اعظم خان رحمۃ اللہ علیہ نے کمال استغناء کا مظاہرہ فرمایا اور دوشالہ اتار کر آگ کے دھرے میں رکھ دیا، یہ دیکھ کر آپ کے صاحبزادے کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کاش! یہ دوشالہ کسی اور کو ہی دے دیا جاتا، ابھی دل میں اس خیال کا آنا تھا کہ والد ماجد اعظم خان رحمۃ اللہ علیہ نے اس آگ کے بھڑکتے دھرے میں سے دوشالہ کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا کاظم! فقیر کے یہاں دھکڑ پکڑ کا معاملہ نہیں ہے، آپ نے دوشالہ دیکھا تو اس دوشالہ میں آگ نے کچھ اثر نہ کیا تھا بلکہ ویسا ہی صاف شفاف برآمد ہوا۔
❣️حضرت کاظم علی خاں بھی شہر بدایوں کے تحصیلدار کے منصب پر فائز تھے،آپ کی جاگیر میں آٹھ گاؤں تھے اور دو سو سواروں کی فوج پر ہر وقت آپ کی خدمت میں حاضر رہتی تھی، آپ کے صاحبزادے کا نام مولانا رضا علی خان تھا۔.
❣️حضرت مولانا رضا علی خان اپنے وقت کے زہدہ الکاملین قطب الوقت تھے، اور بزرگ ترین علمائے کرام میں سے تھے،فقہ و تصوف میں کامل مہارت کے حامل تھے، بہت پراثر وعظ فرمایا کرتے تھے، آپ رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے وقت کے ایک باکرامت ولی تھے۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ فتنہ ١۸٥۷ء کے بعد جب انگریزوں کا تسلط ہوا اور انہوں نے شدید مظالم کئے تو لوگ ڈر کے مارے پریشان پھرتے تھے، بڑے لوگ اپنے اپنے مکانات چھوڑ کر گاؤں وغیرہ چلے گئے، مگر حضرت مولانا رضا علی خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکان میں ہی تشریف فرما رہے، بلکہ پنج وقتہ نمازیں بھی مسجد میں ادا کرتے رہے، ایک دن آپ رحمۃ اللہ علیہ مسجد میں ہی تشریف فرما تھے کہ ادھر سے کچھ انگریزوں کا گزر ہوا انہوں نے خیال کیا کہ شاید مسجد میں کوئ مسلمان ہو تو اسے پکڑ کر ماریں،چنانچہ مسجد میں گھسے ادھر ادھر گھوم آئے مگر انہیں مسجد میں کوئ نظر نہ آیا حالانکہ حضرت مسجد میں ہی تشریف فرما تھے مگر یہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت تھی کہ مسجد میں ہوتے ہوئے بھی آپ ان لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہے،حضرت مولانا رضا علی خان کے فرزند، دلبند مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جو سیدی امام احمد رضا خان کے والد ماجد ہیں۔
❣️ مولانا نقی علی خان اپنے وقت کے تاج العلماء ہیں آپ رحمۃ اللہ علیہ کے خصائل جمیلہ بیان سے باہر ہیں، فراست صادقہ کے ساتھ ساتھ سخاوت و شجاعت، مروت، رواداری، بلند اخلاق و دبدبہ و جلال، کمالات و کرامات میں اپنی مثال آپ ہیں، سب سے بڑھ کر سلطان دو جہاں کی خدمت و غلامی، حضورﷺ سے عشق و محبت، حضورﷺ کے گستاخوں پر غضب و شدت میں کوئ کسر نہ اٹھا رکھی تھی،اور فتنہ مخالفین کا قلع قمع کردیا، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بےشمار تصانیف کے ذریعے مسلمانوں کو نفع پہنچانے اور مفسدین کے دفع کے لئے بے پایاں خدمات انجام دیں، غرض یہ کہ اپنی تمام تر قیمتی عمر اشاعت سنت و ازالہ بدعت میں صرف فرمائ۔
❣️آپ رحمۃ اللہ علیہ کی حسب ذیل اولادیں ہوئیں:-
١- اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
۲- مولانا حسن رضا خان
٣- مولانا محمد رضا خان
ان کے علاوہ تین صاحبزادیاں بھی تولد ہوئیں!!!
📝 ماخوذ از: حیات اعلیٰ حضرت

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں