منگل، 15 جون، 2021

سیــــدی اعلی حضرت کے متعلق بزرگوں کی پیشین گوئیاں!

✍️ پیش کش: زیبا فاطمہ بریلوی 
       ❣️جناب سید ایوب علی صاحب کا بیان ہے کہ "جس وقت اعلی حضرت بطن مادر میں تھے، آپ کے والد ماجد نے ایک بہت ہی عجیب خواب دیکھا جس کی وجہ سے کچھ پریشانی سی لاحق ہوئ رات بھر اس خواب کی فکر میں رہے اور صبح اٹھے تو بھی اس کی تشویش باقی تھی، صبح کو اپنے والد علامہ رضا علی خاں کو خواب بتایا تو علامہ رضا علی خاں نے فرمایا: "بہت مبارک خواب ہے بشارت ہو کہ پروردگار عالم تم کو ایک فرزند عطا فرمائے گا جو علم کے دریا بہائے گا جس کا شہرہ مشرق و مغرب میں پھیلے گا۔ 
    ❣️جناب سید ایوب علی صاحب فرماتے تھے کہ" ایک مرتبہ محلہ سوداگران کی مسجد کے قریب آپ کی طفولیت کے زمانے میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئ انہوں نے اعلی حضرت کو سر سے پاؤں تک بغور دیکھا اور کئی بار دیکھا پھر فرمایا: تم رضا علی خاں کے کون ہو ؟ اعلی حضرت نے جواب دیا : میں ان کا پوتا ہوں, تو ان بزرگ نے فرمایا "جبھی" اور چلے گئے، علماء فرماتے ہیں: ان بزرگ کا مقصد یہ تھا کہ جبھی آپ کے اندر ایسی صفات ہیں کہ آپ بہت بڑے عالم بنیں گے۔
     ❣️جناب علی محمد خاں صاحب جو کہ اعلی حضرت کے بھانجے ہیں فرماتے ہیں کہ: میری والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ: ایک روز کسی نے دروازہ پر آ کر آواز دی تو اعلی حضرت (اس وقت آپ کی عمر دس برس تھی)  باہر تشریف لے گئے، دیکھا کہ ایک بزرگ فقیر منش کھڑے ہیں آپ کو دیکھتے ہی فرمایا: آؤ! آپ تشریف لے گئے پھر ان بزرگ نے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا تم بہت بڑے عالم بنوگے۔
      ❣️مولوی عرفان علی صاحب قادری رضوی بیسلپوری کا بیان ہے: کہ ایک مرتبہ حضور نے ارشاد فرمایا: کہ میں اپنی مسجد کے سامنے کھڑا تھا اس وقت میری عمر ساڑھے تین سال کی ہوگی، ایک صاحب اہل عرب کے لباس میں ملبوس جلوہ فرما ہوئے یہ معلوم ہوتا تھا کہ عربی ہیں انہوں نے مجھ سے عربی زبان میں گفتگو فرمائی میں نے ان سے فصیح عربی میں گفتگو کی اس بزرگ ہستی کو پھر کبھی نہ دیکھا۔ تین سال کی عمر میں ان بزرگ کا آپ سے گفتگو فرمانا یقیناً اس بات کی پیش گوئی تھی کہ آپ عربی زبان میں بھی نہایت فصیح و بلیغ اور ہر فن میں ماہر ہونگے۔
    ❣️ملفوظات حصہ چہارم میں ہے کہ بریلی میں ایک مجذوب بشیر الدین آخونرزادہ کی مسجد میں رہا کرتے تھے، جو کوئی ان کے پاس جاتا کم سے کم پچاس گالیاں سناتے اعلی حضرت فرماتے ہیں مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا شوق ہوا، ایک روز رات کے گیارہ بجے میں اکیلا ان کے پاس جا پہنچا اور فرش پر جا کر بیٹھ گیا وہ حجرے میں چارپائی پر بیٹھے تھے مجھ کو بغور پندرہ بیس منٹ تک دیکھتے رہے  آخر مجھ سے پوچھا تم مولوی رضا علی خاں کے کون ہو؟  میں نے کہا میں ان کا پوتا ہوں فوراً وہاں سے جھپٹے اور مجھ کو اٹھا کر لے گئے اور چارپائی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا آپ یہاں تشریف رکھیے، اور مجھ سے پوچھا کہ کیا مقدمہ کے لیے آئے ہو میں نے کہا مقدمہ تو ہے لیکن میں اس کے لیے نہیں آیا ہوں میں تو صرف دعائے مغفرت کے لئے حاضر ہوا ہوں ہو,  تو وہ قریب آدھے گھنٹے تک برابر کہتے رہے اللہ کرم کرے! اللہ کرم کرے! اللہ کرم کرے! اللہ رحم کرے! اللہ رحم کرے!، اس کے بعد میرے منجھلے بھائی مولوی حسن رضا خاں ان کے پاس مقدمہ کی غرض سے حاضر ہوئے ان سے خود ہی پوچھا کہ مقدمہ کے لئے آئے ہو عرض کیا جی ہاں! فرمایا مولوی صاحب سے کہنا قرآن شریف میں یہ بھی تو ہے "نصر من اللہ و فتح قریب" بس دوسرے دن ہی مقدمہ فتح ہو گیا۔ ان بزرگ کا عام انسانوں کو گالی بکنا اور سیدی اعلی حضرت کی اتنی تعظیم کرنا کہ ان کو چارپائی پر بٹھانا خود نیچے بیٹھنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ مجذوب امت کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ یہ بچہ آگے چل کر زمانے کا مجدد اور دین کا بہت بڑا عالم بنے گا۔
📝 ماخوذ از: حیات اعلی حضر (مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں