بدھ، 16 جون، 2021

سیــــدی اعلیٰ حضرت کا عشـــــق رسول ﷺ!

✍️ پیش کش: نغمہ ثقلینی اختری
   ❣️ضیاء المشائخ حضرت محمد ابراہیم فاروقی محمد مجددی شور بازار کابل افغانستان کا ایمان افروز تاثر ہے کہ "مولانا احمد رضا خاں قادری حضرت خاتم النبیین ﷺ کے عاشق صادق اور آں حضور کی محبت میں سر شار تھے۔

      ان کا دل عشق محمدی کے سوز سے لبریز تھا، چنانچہ ان کے نعتیہ کلام اور نغمات اس حقیقت پر شاہد عدل ہیں اور مولانا کے کلام نے مسلمان مردوں اور عورتوں کے دلوں کو عشق محمد ﷺ کے مقدس نور سے روشن کر دیا ہے۔

      جناب ڈاکٹر جمیل جالبی (وائس چانسراے کراچی یونیورسٹی) فرماتے ہیں: "مولانا احمدرضا خان بریلوی کا امتیازی وصف جو دوسرے تمام فضائل و کمالات سے بڑھ کر ہے وہ ہے عشق رسول ﷺ۔

      اور حضرت صاحب زادہ ہارون رشید ارشاد فرماتے ہیں اعلی حضرت احمدرضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ کا ہر قول اورہر فعل عشق رسول ﷺ سے اس طرح لبریز معلوم ہوتا ہے گویا کہ خالق کل نے آپ کو احمد مختار ﷺ کے عاشقوں کیلے شمع ہدایت بنایا ہے تاکہ یہ مشعل اس جادہ پر چلنے والوں کو تکمیل ایمان کی منزل سے ہمکنار کر سکے۔

      جب کوئ صاحب حج بیت اللہ شریف کرکے اعلی حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ سرور کائنات ﷺ کی بارگاہ میں حاضری دی ۔اگر جواب اثبات میں ملتا آپ فوراً ان کےقدم چوم لیتے اور اگر جواب نفی میں ملتا  پھر مطلق تخاطب نہ فرماتے، ایک بار ایک حاجی صاحب خدمت میں حاضر ہوے حسب عادت کریمہ اعلی حضرت نے پوچھا کیا بار گاہ سرکار کائنات ﷺ میں حاضری ہوئ؟ وہ آبدیدہ ہو کر عرض کرنے لگے ہاں مگر صرف دو روز قیام رہا! اعلی حضرت نے ان صاحب کی قدم بوسی کی اور ارشاد فرمایا: وہاں کی تو دو سانسیں بہت ہیں آپ نے تو دو دن قیام فرمایاہے۔

     اعلی حضرت امام احمد رضا خاں نے دو مرتبہ حرمین طیبین کی زیارت فرمائ پہلی مرتبہ ہمراہ والد ماجد مولانا نقی علی خاں کے 1259ھ/ 1877ء کو، اور دوسری مرتبہ جب بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضر ہوے تو شوق دیدار کے ساتھ مواجہہ عالیہ میں درود شریف پڑھتے رہے، آپ کوامید تھی کہ ضرور سرکار ﷺ عزت افزائ فرمائیں گےاور زیارت جمال سے سرفراز فرمائیں گے لیکن پہلی شب تکمیل آرزو نہ ہو سکی اسی یاس و حسرت کے عالم میں ایک نعت کہی جس کا مطلع ہے:۔

وہ سوے لالہ زار پھرتے ہیں 

تیرے  دن اے بہار پرتے ہیں

    اور پہر مقطع میں اپنے متعلق بارگاہ رسالتﷺ میں عرض گزارہوتے ہیں:۔

کوئ کیوں پوچھے تیری بات رضا 

تجھ   سے  کتے  ہزار  پھرتے  ہیں

     مقطع عرض کرنا تھا بس قسمت جاگ اٹھی ارمانوں کی بہار آگئ، خوشیوں کے کھیت لہلہانے لگے، ہوائیں معطر ہوئیں، ایک مومن مسلمان کی مراد یوں پوری ہوگئ، کہ تمام رسولوں کے سر دار حضور ﷺ نے عالم بیداری میں اعلی حضرت کو اپنا دیدار نصیب فرمایا، سیدی اعلی حضرت حضور ﷺکے رخ انور کو دیکھتے ہی پکار اٹھے:۔

پیش نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بیقرار

روکئے   سر   کو   روکئے  ہاں یہی امتحان ہے

         اعلی حضرت امام احمد رضا کی شاعری آپ کے عشق رسول کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے، خود ہی ارشاد فرماتے ہیں۔جب سرکار اقدسﷺکی یاد تڑپاتی ہے ۔تو میں نعتیہ اشعار سےبے قرار دل کو تسکین دیتا ہوں ورنہ شعر و سخن میرا مذاق طبع نہیں۔

            📝 ماخوذ از:سوانح اعلی حضرت

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں