خواب میں اعلٰی حضرت کے دادا حضرت مولانا رضا خاں صاحب تشریف لائے اور فرمایا : وہ شخص عنقریب آنے والا ہے جو تمہارے اس درد کی دوا کرےگا، چنانچہ اس واقعہ کے دوسرے یا تیسرے روز تاج الفحول حضرت مولانا عبد القادر صاحب بدایونی علیہ الرحمہ تشریف لائے، اُن سے بیعت کے متعلق مشورہ ہوا اور یہ طے ہوا کہ جلد ہی مارہرہ شریف چل کر بیعت ہوجانا چاہئے، چنانچہ یہیں سے یہ تینوں حضرات مارہرہ شریف کو چل پڑے، (اعلٰی حضرت اور اُن کے والد ماجد اور مولانا عبد القادر صاحب) -
جب اعلی حضرت مارہرہ شریف پہنچے اور آستانہ عالیہ برکاتیہ پر حاضری ہوئی اور وہاں کے صاحب سجادہ حضرت سیدنا و مولانا آل رسول سے اعلی حضرت قبلہ اور اُن کے والد ماجد کی پہلی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اعلی حضرت قبلہ کو دیکھتے ہی جو الفاظ فرمائے تھے وہ یہ ہیں : " آئیے ہم تو کئی روز سے آپ کے انتظار میں تھے" اعلٰی حضرت اور اُن کے والد ماجد بیعت ہوئے مرشد برحق نے تمام سلاسل کی اجازت عطا فرما کر تاج خلافت اعلی حضرت کے سر پر اپنے دست کرم سے رکھ دیا، یوں یہ خلش جس کے لئے اعلی حضرت روتے تھے رب العزت نے نکال دی۔
شریعت کی تعلیم و تربیت باپ سے ملی تھی اور طریقت کی تکمیل پیر و مرشد نے کرادی، اس وقت اعلی حضرت قدس سرہ شریعت و طریقت دونوں کے امام ہو گئے - زندہ باد اعلی حضرت زندہ باد!
بعض مریدین جو اس وقت حاضر تھے حضرت سیدنا آل رسول قدس سرہ سے عرض کیا کہ حضور اس بچے پر یہ کرم کہ مرید ہوتے ہی تمام سلاسل کی اجازت و خلافت عطا ہو گئی، نہ ضروری ریاضت کا حکم ہوا، نہ چلہ کشی کرائی۔ اس کے جواب میں حضرت سیدنا آل رسول نے فرمایا کہ تم کیا جانو، یہ بلکل تیار آئے تھے اُنہیں صرف نسبت کی ضروت تھی تو یہاں آکر وہ ضرورت بھی پوری ہو گئی۔یہ فرما کر آب دیدہ ہو گئے اور فرمایا کہ رب العزت دریافت فرمائے گا کہ آل رسول تو دنیاں سے ہمارے لیے کیا لایا ؟تو میں احمد رضا کو پیش کروں گا -
مارہرہ شریف: ضلع ایٹہ میں ایک قصبہ ہے اور اس میں سادات کرام کا یہ خاندان بلگرام شریف سے آکر آباد ہوا ہے، یہ حسنی و حسینی سادات قادری نسل سے ہیں اور نسبت بھی قادری ہے، اس خاندان میں بڑے بڑے اولیائے کرام ہوئے، اعلٰی حضرت قبلہ کے مرشد سیدنا شاہ آل رسول انہیں میں سے ایک تھے۔اُن کا اپنے دور کے اولیائے کرام میں شمار تھا۔علمائے کرام بدایوں بھی اُسی خاندان سے بیعت ہوئے اور علمائے کرام بریلی کو بھی اُسی دود مان پاک کی غلامی پر فخر ہے"۔
📝 ماخوذ از: سیرت اعلیٰ حضرت

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں