" اعلیٰ حضرت قبلہ کے فیضانِ مجدّدیت کا ظہور ۱۳۰۱ھ کے آغاز سے ہوا، یہ واقعہ ذرا تفصیل طلب ہے!
واقعــہ: یہ ہے کہ ہمارے چچا مولوی محمد شاہ خاں صاحب عرف نتھن خاں صاحب مرحوم سوداگران محلّہ کے قدیمی باشندے تھے، اعلیٰ حضرت سے عمر میں ایک سال بڑے تھے، بچپن ساتھ گزارا، ہوش سنبھالا تو ایک ہی جگہ نشست و برخاست رہی، ایسی حالت میں آپس میں بے تکلفی ہونا ہی تھی، اعلیٰ حضرت قبلہ ان کو "نتھن بھائی جان" کہتے تھے اور ان کے ایک سال بڑے ہونے کا بڑا لحاظ فرماتے تھے، یہ بھی اکثر سفر و حضر میں ساتھ ہی رہتے، آدمی ذی علم تھے، گھر کے خوش حال، زمین دار تھے، یہاں تک کہ ندوہ کے مقابلہ میں جب اعلیٰ حضرت قبلہ نے بہار و کلکتہ کا سفر کیا تھا تو نتھن میاں بھی ساتھ رہے، میں نے اپنے ہوش سے انہیں اعلیٰ حضرت قبلہ کی صحبت میں خاموش اور مودّب ہی بیٹھے دیکھا، انہیں اگر مسئلہ دریافت کرنا ہوتا تو دوسروں کے ذریعہ سے دریافت کراتے، میں مدتوں سے یہ ہی دیکھ رہا تھا، ایک روز میں نے چچا سے عرض کیا کہ اعلیٰ حضرت تو آپ کی بزرگی کا لحاظ کرتے ہیں آپ ان سے اس قدر کیوں جھجھک محسوس کرتے ہیں کہ مسئلہ خود نہیں دریافت کرتے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم اور وہ بچپن سے ساتھ رہے، ہوش سنبھالا تو نشست و برخاست ایک ہی جگہ ہوتی، نمازِ مغرب پڑھ کر ہمارا معمول تھا کہ ان کی نشست گاہ میں آ بیٹھتے، سیّد محمود شاہ صاحب وغیرہ چند ایسے احباب تھے کہ وہ بھی اس صحبت کی روزانہ شرکت کرتے، عشا تک مجلس گرم رہتی، اس مجلس میں ہر قسم کی باتیں ہوتی تھیں، علمی مذاکرے ہوتے تھے، دینی مسائل پر گفتگو ہوتی اور تفریحی قصّے بھی ہوتے، جس دن محرّم ۱۳۰۱ھ کا چاند ہوا، اس دن حسبِ معمول ہم سب بعد مغرب اعلیٰ حضرت کی نشست گاہ میں آگۓ۔
اعلیٰ حضرت خلاف معمول کسی قدر دیر سے پہنچے، حسبِ معمول السلام علیکم کے بعد تشریف رکھی، اور لوگ بھی تھے، مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ نتھن بھائی جان آج ۱۳۰۱ھ کا چاند ہو گیا، میں نے عرض کیا کہ میں نے بھی دیکھا، بعض اَور ساتھیوں نے چاند دیکھنا بیان کیا، اس پر فرمایا کہ بھائی صاحب یہ تو صدی بدل گئ، میں نے بھی عرض کیا: صدی تو بیشک بدل گئ، خیال کیا تو واقعی اس چاند سے چودہویں صدی شروع ہوئ تھی، اس پر فرمایا کہ اب ہم اور آپ کو بھی بدل جانا چاہیے، یہ فرمانا تھا کہ ساری مجلس پر ایک سکوت طاری ہو گیا اور ہر شخص اپنی جگہ بیٹھا رہ گیا، پھر کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہوئی، کچھ دیر سب خاموش بیٹھے رہے، اور السلام علیکم کر کے سب فرداً فرداً چلنے لگے، اس وقت تو کوئی بات سمجھ ہی نہ آئی کہ یکایک اس رعب چھا جانے کا سبب کیا ہوا، دوسرے روز بعد فجر جب سامنا ہوا اور ان کے مجدّدانہ رعب و جلال سے واسطہ پڑا تو یاد آیا کہ انہوں نے جو بدلنے کو فرمایا تھا تو وہ خدا کی قسم ایسے بدلے کہ کہیں سے کہیں پہنچ گئے، اور ہم جہاں تھے وہیں رہے، وہ دن ہے اور آج کا دن کہ ہمیں ان سے بات کرنے کی ہمت ہی نہ ہوئی، بلکہ اس اہم تبدیلی پر ہم نے تنہائی میں بارہا غور بھی کیا تو بجز اس کے کوئی بات سمجھ ہی میں نہ آئی کہ ان میں منجانب اللہ اس دن سے کوئی بڑی تبدیلی کر دی گئی ہے، جس نے انہیں بہت اونچا کر دیا ہے، اور ہم جس سطح پر پہلے تھے وہیں اب ہیں، ہاں جب دنیا انہیں "مجددالمأۃالحاضرہ" کے نام سے پکارنے لگی تو سمجھ میں آیا کہ وہ تبدیلی یہ تھی جس نے ہمیں اتنے روز حیران ہی رکھا، یہ تھی وہ تاریخ جس میں انہیں موجودہ صدی کا مجدّد بنایا گیا اور مجدّدیت کا منصبِ جلیل عطا ہوا، اور ساتھ ہی ساتھ وہ رعب عطا ہوا جو اسی تاریخ سے محسوس ہونے لگا، باوجودیکہ ہمیں بے تکلفی کے لیل و نہار اب تک یاد ہیں مگر رعبِ حق برابر روز افزوں ہے جو ان کے مدارج کی مزید ترقی کی دلیل ہے"۔
📝 ماخوذ از: عقــــــــائد و کلا (مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں