محلہ کے بچے کبھی کھیلتے ہوئے گھر آ جاتے تو آپ ان کے کھیل میں کبھی شریک نہ ہوتے بلکہ ان کے کھیل کو دیکھا کرتے۔
طہارتِ نفس، اتباعِ سنت، پاکیزہ اخلاق اور حسنِ سیرت جیسے اوصاف آپ کی ذات میں بچپن ہی سے ودیعت تھے آپ کی زبان کھلی تو صاف تھی، عام طور پر بچوں کی طرح کج مج نہ تھی، غلط الفاظ آپ کی زبان پر کبھی نہ آئے اور نہ کسی نے سنے۔
امام احمد رضا قدس سرہ نے خود فرمایا:
میں اپنی مسجد کے سامنے کھڑا تھا، اس وقت میری عمر ساڑے تین سال ہوگی ، ایک صاحب اہلِ عرب کے لباس میں ملبوس جلوہ فرما ہوئے، یہ معلوم ہوتا تھا کہ عربی ہیں، انہوں نے عربی زبان میں مجھ سے گفتگو بھی فرمائی ، میں نے ان کی زبان میں ان سے گفتگو کی، میں نے ان بزرگ ہستی کو پھر کبھی نہ دیکھا۔
ایک مرتبہ طفولیت کے زمانہ میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے اعلی حضرت قدس سرہ کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور کئ بار دیکھنے کے بعد فرمایا: تم رضا علی خان صاحب کے کون ہو؟ آپ نے جواب دیا : میں ان کا پوتا ہوں! فرمایا: جبھی ، اور فوراً تشریف لے گئے! ۔
📝 ماخوذ از: جـــامع الاحـــادیث

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں