منگل، 15 جون، 2021

سیــــدی اعلیٰ حضرت کی تعلیم و تربیت!

✍️ پیش کش: شبینہ یاسین اختری
❣️ آپ کی تعلیم کا آغاز ہوا تو پہلے ہی دن ایک عجیب واقعہ پیش آیا، استاذ محترم نے "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کے بعد جب حروف تہجی کی تختی پڑھانا شروع کی تو آپ تمام حروف پڑھ کر"لا" پر جاکر رک گے اور عرض کیا : الف اور لام تو میں پڑھ چکا، یہاں دوبارہ پڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا :جو تم نے الف کی صورت میں پڑھا وہ ہمزہ تھا، چوں کہ الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے لہذا اسکا تنہا تلفظ نہیی ہو سکتا! اب لام کے ساتھ ملا کر اسکو پڑھایا جا رہا ہے، عرض کی: پھر تو کسی بھی حرف کے ساتھ ملا کر پڑھا یا جا سکتا ہے، اس لام کی کیا خصوصیت تھی؟

       جدّ امجد حضرت علاّمہ رضا علی خانصاحب قبلہ علیہ الرحمہ بھی مجلس میی موجود تھے۔آپ نے فرمایا:الف اور لام میں صورت اور سیرت کے اعتبار سے ایک خاص مناسبت ہے۔

      صورۃً تو اس طرح کہ"لا"لکھا جاتا ہےجس میں دونوں کےشوشےایک طرح کے ہیں ،اور سیرۃً اس لیے کہ الف اور لام کا جب تلفظ  کروگے  تو ایک کو دوسرے کے قلب اور بیچ میں لکھو گے، لہذا دونوں میی قلبی تعلق ہے۔لفظ "الف"کےبیچ میی "ل"ہے اور"لام"کے بیچ میں "ا"  ہےیہ جواب دے کر جد‌ّامجد نےوفورِمسرت میں گلے سے لگا لیا،کیوں کہ وہ اپنی فراستِ ایمانی اور مکاشفہ روحانی سے یہ سمجھ گئے تھے کہ یہ بچہ آگےچل کر کچھ ہوگا۔

      قرآنِ کریم ناظرہ پڑھ رہے تھے کہ ایک دن استاذِ محترم نے کسی مقام پر کچھ اعراب بتایا،آپ نے استاذ کےبتانے کے خلاف پڑھا، انہوں نے دوبارہ کرخت آواز سے بتایا،آپ نےپھر وہی پڑھا جو‌ پہلے پڑھا تھا، آپ کے والد ماجد جو قریب ہی کے کمرے میی بیٹھے تھے انہوں نے سپارہ منگا کر دیکھا تو سپارہ میں استاذ کے بتانے کے موافق تھا۔ آپ بھی وہاں چوں کہ کتابت کی غلطی محسوس کر رہے تھے،لہذا آپ نے قرآن پاک منگایا، اس میں وہی اعراب پایاجو اعلی حضرت نے بار بار پڑھا تھا، باپ نے بیٹے سے دریافت کیا کہ تمہیں جو استاد بتاتے تھے وہی تمہارے سپارے میں بھی تھا،تم نے استاد کے بتانے کے بعد بھی نہیی پڑھا؟ اعلی حضرت نے عرض کیا:میں نے ارادہ کیا کہ اپنے استاذ کے بتانے کے موافق پڑھوں مگر زبان نے یارا نہ دیا۔اس پر آپ کے والد ماجد وفورِ مسرت سے آبدیدہ ہو گۓ اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اس بچہ کو "ما أنزل اللہ" کے خلاف پر قدرت ہی نہیی دی گئ ہے، یہی تھے آثار مجدّدیت۔

       ایک روز صبح کو بچے مکتب میں پڑھ رہے تھے،ان میں اعلی حضرت بھی شامل تھے ،ایک آنے والے بچے نے استاد کو ان الفاظ میں سلام کیا  "السلام علیکم"  استاد صاحب نے جواب میں کہا :جیتے رہو! آپ نے فوراً استاذ صاحب سے عرض کیاکہ یہ تو جواب نہ ہوا،انہوں نے پوچھا اسکا جواب کیا ہے؟اعلی حضرت نے عرض کیا:اس کا جواب"وعلیکم السلام"ہے، اس پر استاد بہت خوش ہوۓ اور دعائیں دیں۔

     چھو ٹی چھوٹی شرعی غلطیوں پر آپ بچپن ہی میی بلا  تکلف بول دیا  کرتے تھے ،ایسا معلوم ہوتا تھا کہ غلطی کی تصحیح قدرت ہی نے آپ کی عادتِ ثانیہ بنا دی تھی،چوں کہ آپ  سے آگے چل کر ربّ العزت کو یہی کام‌لینا تھا۔

     مولانا حسنین رضا خانصاحب قبلہ لکھتے ہیں:

      "آپ"مسلم الثبوت"پڑھ رہے تھے اور زیادہ رات تک مطالعہ کرتے تھے، جس مقام پر انکا سبق ہونے والا تھا، وہاں ان کے والد ماجد نے مولانا محب اللہ صاحب بہاری (مصنّفِ کتاب) پر ایک اعتراض کر دیا تھا جو انہوں نے حاشیہ پر درج کرکے  چھوڑ دیا تھا، جب اعلی حضرت قبلہ کی نظر اس اعتراض پر پڑی تو آپکی بانکی طبیعت میں یہ بات آئی کہ مصنف کی عبارت کو حل ہی اس طرح کیا جاۓ کہ اعتراض وارد ہی نہ ہو، آپ اس حل کو ایک بجے رات تک سوچتے رہے بالآخر تاںٔیدِ غیبی سے وہ ‌حل میں آگیا، آپ کو انتہائ مسرت ہوئی اور اس وفورِ مسرت میں بے اختیار آپ کے ہاتھوں سے تالی بج گئ، اس سے سارا گھر جاگ گیا اور کیا ہے ؟کیا ہے؟کا شور مچ گیا،تو آپ نے اپنے والدِ ماجد کو کتاب کی عبارت اور اس کا عام مطلب اور اس پر ان کا اعتراض سنانے کے بعد، آپ نے اپنی طرف سے اس عبارت کی ایک ایسی تقریر کی کہ وہ اعتراض ہی نا پڑا، اس پر باپ نے گلے سے لگایا اور فرمایا کہ "امن میاں تم مجھ سے پڑھتے نہیں بلکہ مجھے پڑھاتے ہو "_

     سیدی اعلی حضرت نے ابتدائی کتابیں پہلے استاذ سے پڑھیں، اور چار ٤ سال کی عمر میں قرآن ناظرہ ختم کیا، اسکے بعد " میزان و منشعب" تک  حضرت مولانا عبد القادر بیگ سے پڑھا۔ابتدائی تعلیم کے بعد والد ماجد نے آپ کی تعلیم اپنے ذمہ لے لی اور آخر تک درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔

    اسی دوران " شرحِ چغمینی " مولانا عبد العلی رامپوری ( ریاضی داں ) سے چھ ٦ ماہ وہاں رہ کر پڑھی۔

آپ فرماتے ہیں : حضور پر نور پیرو مرشد قدس سرّہ کو شامل کرکے چھ ٦ نفوسِ قدسیہ میرے استاذ ہوتے ہیں۔

     ان چھ٦ حضرات کے علاوہ حضور نے کسی کے سامنے زانوۓ ادب طے نہیں کیا، مگر خدا وندِ  عالم نے محض اپنے فضل وکرم اور آپ کی محنت اور خدا داد ذہانت کی وجہ سے اتنے علوم و فنون کا جامع بنایا کہ پچاس ٥٠ فنون میں حضور نے تصنیفات فرمائیں، اور علوم و معارف کے وہ دریا بہاۓ کہ خدام و معتقدین کا تو کہنا کیا، مخالفین مخالفتیں کرتے، اپنی سیاہ قلبی کی وجہ سے براںٔیاں کرتے، مگر ساتھ ساتھ ٹیپ کا بند یہ ضرور کہنے پر مجبور ہوتے کہ یہ سب کچھ ہے مگر مولانا احمد رضا خانصاحب قلم کے بادشاہ ہیں، جس مسٔلہ پر قلم اٹھا دیا نہ موافق کو ضرورت افزاںٔش، نہ مخالف کو دم زدن کی گنجائش ہوتی ہے۔

       پورے زمانہ طالب علمی میں کوئی کتاب بالاستیعاب مکمل نہ پڑھی، بلکہ والد صاحب جب یہ دیکھتے کہ امّن میاں مصنف کے طرز سے واقف ہو گۓ ہیں تو مشکل مقامات پر عبور کرانے کے بعد دوسری کتابیں شروع کرا دیتے، اس طرح قلیل مدت میں آپ نے تمام درسی کتب کو مکمل کر لیا اور ١٣ سال دس ١٠ ماہ چار ٤ دن کی عمر شریف میں ١٤ شعبان المعظّم ١٢٨٦ ھ کو فارغ التحصیل ہو گۓ۔

                  📝 ماخوذ از: عقائد و کلام

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں