بدھ، 23 جون، 2021

<•✿┄━━>> ﷽ <<━━─┄ ✿•>  تعلیم و تربیت کے تعلق سے "سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی قدس سرہ العزيز" کا دس نکاتی منصوبہ!

  منصوبہ نمبر 1👇

         ✥━• مدارس کا قیام  •━✥

امام احمد رضا تحریر فرماتے ہیں:

    "عظیم الشان مدارس کھولے جائیں با قاعدہ تعلیمیں ہوں۔"

 ( فتاویٰ رضویہ، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبٸ،جلد 12، ص 133)

       اس طرح صالح و علمی اور فکری انقلاب درس گاہوں سے رونما ہوا۔ مدارس اسلامیہ نے دین کے دعوتی، علمی، اخلاقی اور اعتقادی و معاشرتی پیغام کو عام کیا ۔ "العلماء ورثۃ الانبیاء" (علما انبیا کے وارث ہیں) کے مطابق انبیاۓ کرام کے مشن کو کمال تک پہنچایا۔ آج دین کی جو بہاریں نظر آ رہی ہیں وہ مدارس کی ہی دین ہے، جہاں سے ہر شعبہ ہاے حیات میں رونمائی و قیادت کرنے والے علما پیدا ہوۓ۔ اشاعت علم دین اور فروغ حق کے لیے مدرسوں کا قیام ناگزیر ہے۔ 

      امام احمد رضا نے خود بھی مدارس کے قیام پر توجہ دی اور اس وقت جب کہ دہلی میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور انگریزوں نے اپنے قبضہ و تسلط کے بعد مدارس کو مفلوک الحال بنا ڈالا تھا نیز مدارس کے لیے مسلم سلاطین کی عطا کردہ جاے دادوں کو چھین لیا تھا آپ نے بریلی میں ١٣٢٢ھ / ١٩٠٤ ٕ میں دارالعلوم منظر اسلام قائم کیا جسے بر صغیر میں مسلمانوں کی دینی تعلیمی ترقی کے دوسرے دور کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس درس گاہ نے باقاعدہ اسلامی علوم کے سلسلے کو آگے بڑھایا، اور ایسے نادر روزگار علما تیار ہوۓ جن کی  انقلابی خدمات کی دھمک اب بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔

آپ کے تلامذہ و خلفاء نے مدارس اسلامیہ کا جال بچھا دیا۔ جن کی تصنیفی، تفسیری، فقہی، سیاسی، تعلیمی اور محدثانہ خدمات سے تاریخ ہند کے صفحات جگ مگا رہے ہیں۔ ہند کی فضا میں تعلیمی سطح پر کٸ تحریکیں ابھریں لیکن یہ بھی ضابطے کی بات ہے کہ جب بنیاد ہی کمزور ہو تو عمارت بھی ناقص کمزور ہوگی۔ یوں ہی ببول سے گلاب کا حصول محال ہے۔ جو تحریکات نمودار ہوٸیں ان کے عقائد و مقاصد درست نہیں تھے۔ مثلاً تحریک سر سید کو ہی دیکھتے ہیں، موصوف نے معاصر علوم کی درس گاہ قائم کی جہاں سے دانش ور تو ضرور نکلے لیکن وہ دینی قیادت کے اہل افراد قوم کو نہ دے سکے، اور ایسے فارغین انگریزی تمدن و تہذیب کے حملوں سے قوم کو کیسے بچا پاتے جب کہ وہ خود کچھ اسی طرح کے ماحول کے پروردہ تھے۔ تحریک ندوہ کا آغاز بہ ظاہر اسلام کے فروغ کے جذبے کے تحت ہوا لیکن در پردہ ایسی جماعت کی تیاری کا فسانہ سامنے آیا جس کا مقصد حق و باطل کےفرق کو اٹھا دینا تھا، جن لوگوں نے اہانت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کیا تھا اور وہ تائب بھی نہیں ہوئے تھے ان سے مل کر اس تحریک کو آگے بڑھایا گیا۔ اسی طرح دار العلوم دیوبند بھی بد اعتقادی کے جراثیم سے آلودہ ہو کر ملت کے لیے قابل اور عشق رسول کے جوہر سے مالا مال افراد تیار نہ کر سکا۔ اس طرح کی تحریکات کی امام احمد رضا نے سختی سے تردید فرمائی اور عقیدہ و ایمان کی سلامتی کو فاٸق رکھا۔ اسی طرح دہریت و نیچریت کی تحریک کا آغاز  و ارتقا بھی ہو چکا تھا اس کے ابطال و تردید میں آپ کی خدمات بے مثل ہیں، ایک مقام پر دہریت و نیچریت کے سد باب میں علم دین کی اشاعت کے رخ پر روشنی ڈالتے ہوٸے تحریر فرماتے ہیں: ”جب تک یہ ( بے سود و تضییع اوقات تعلیمیں) نہ چھوڑی جائیں اور تعلیم و تکمیل عقائد حقہ و علوم صادقہ کی طرف باگیں نہ موڑی جائیں دہریت و نیچریت کی بیخ کنی نا ممکن ہے۔“ 

( المحجۃ الموتمنۃ فی آیۃ الممتحنۃ ص ٢٣ )

    آپ اس فکر افزا نکتے میں باطل تحریکات کے سد باب کے لیے علم دین کی اہمیت واضح کر رہے ہیں۔ امام احمد رضا کے نزدیک اشاعت علم دین اہم تھی جیسا کہ آپ نے تحریر فرمایا ہے: ”دین متین علم دین کے دامن سے وابستہ ہے۔“ 

   ( فتاویٰ رضویہ ، رضا اکیڈمی ممبٸ ، جلد ١٢ ، ص ١٧٨ )

          اور اس علم کی اشاعت کے لیے تعمیری فکر کے حامل مدارس کا قیام ضروری ہے۔ 

         نظام تعلیم میں نصاب کا کردار کلیدی ہوتا ہے نیز نصاب کی تدریس بھی اہمیت رکھتی ہے۔ امام احمد رضا ایک ماہر تعلیم تھے۔ آپ نے جہاں مدارس کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کیا وہیں با قاعدہ تعلیمی نظام پر بھی زور دیا تاکہ جو ٹیم تیار ہو کر نکلے وہ اپنے علم اور فن کے اعتبار سے پختہ ہو ساتھ ہی تعمیری مزاج کی حامل بھی، اور اس کا اندازہ بھی خوب ہوتا ہے کہ امام احمد رضا کے تلامذہ میں ہر ایک کسی نہ کسی شعبے کا ماہر اور یگانہ تھا ؎

  کوئی صدر الافاضل ہے کوئی صدر الشریعہ ہے 

 یہ سارا فیض ہے کس کا امام احمد رضا خاں کا

                                ▪️▪️▪️

❖ماخذ: حیات رضا، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی ❖

پیش کردہ: عالمہ زینب منیر (رکن تحریک فروغ رضویات)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں