جناب سید ایوب علی صاحب کا بیان ہے کہ رات تقریباً دو بجے کا وقت تھا، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریری کام موقوف کر کے آرام فرمانے کے لئے لیٹ چکے تھے، کہ اچانک کسی نے دروازہ پر دستک دی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فورا اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور کافی دیر بعد واپس تشریف لے آئے، پیرنی صاحبہ نے عرض کی حضور اتنی رات کو کون آیا تھا، آپ نے فرمایا ایک مسئلہ کا جواب دینا تھا، انہوں نے پوچھا کہ اس وقت کون مسئلہ پوچھنے آیا تھا؟آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ایک جن تھا جو بہت دور سے آیا تھا۔
❣️ عید کے کپڑے:۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قریبی مرید جناب سید ایوب علی صاحب نے فرمایا: کہ عید میں چند روز باقی تھے، اچانک میرے بھائی قناعت علی کو خیال آیا کہ اس مرتبہ میرے پاس عید کے لئے نئے کپڑے موجود نہیں، خیال آنا تھا کہ اسی روز بعد نماز ظہر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مسجد سے نکلتے وقت برادر قناعت علی سے ارشاد فرمایا کہ یہیں ٹھہرے رہیئے، پھر گھر تشریف لے گئے کچھ وقفہ کے بعد گھر کی اندرونی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر انہیں اشارے سے قریب بلایا، یہ جھجکے کیوں کہ وہ جگہ زنان خانہ کے قریب ہی تھی، پھر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: تشریف لے آئیں اور کواڑ بند کرتے آئیں، اور زنجیر ڈال دیجئے انہوں نے حضرت کے حکم کی تعمیل کی پھر جھجکتے آگے بڑھے تو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک جوڑے کا کپڑا بغیر سلا اور ساتھ دس روپے کا نوٹ عطا فرمایا، ساتھ ہی فرمایا کہ اس جوڑے کو مردے کے نام کا نہ سمجھیے گا اسے گھر لے جائیے۔
❣️ بارش ہو گئی:۔
ایک بار ایک نجومی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا، دوران گفتگو ایک زائچہ بنا کر کہا کہ اس ماہ بارش نہیں ہوگی، آئندہ ماہ ہوگی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے وہ چاہے تو آج ہی بارش برسادے، آپ ستاروں کو دیکھ رہے ہیں اور میں ستاروں کے ساتھ ساتھ ستارے بنانے والے کی قدرت کو بھی دیکھ رہا ہوں، اللہ عزوجل قادر مطلق ہے کہ جس ستارے کو جس وقت چاہے جہاں چاہے پہنچا دے، آپ آئندہ ماہ بارش ہونے کا کہہ رہے ہیں میرا رب چاہے تو آج ہی اور ابھی بارش ہونے لگے آپ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زبان مبارک سے اتنا نکلنا تھا، کہ چاروں طرف سے گھنگھور گھٹا چھا گئی اور جھوم جھوم کر بارش برسنے لگی۔
❣️ مبارک رومال:۔
سید قناعت علی شاہ صاحب جو کہ بہت کمزور دل کے مالک تھے، اور حساس طبیعت رکھتے تھے ایک مرتبہ کسی مریض کے خطرناک آپریشن کی تفصیلات سن کر سخت پریشانی سے دو چار ہوئے، یہاں تک کہ بیہوش ہو گئے، ہوش میں لانے کے لئے کافی تدبیریں کیں مگر انہیں ہوش نہیں آیا، بالآخر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں عرض کی گئی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سید صاحب کے پاس تشریف لائے، شفقت سے ان کا سر اپنی گود میں لیا پھر اپنا مبارک رومال ان کے چہرے پر ڈالا تو سید صاحب کو فورا ہوش آ گیا اور آنکھیں کھول دیں۔
📝 ماخوذ از:سیرت اعلیٰ حضرت

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں