جمعہ، 8 اکتوبر، 2021

اعلی ‏حضرت ‏کا ‏عشق ‏رسول ‏ﷺ

                         از قلم:افشاں تبسم قادریہ

     ہر انسان کی فطری عادت وصفت ہوا کرتی ہے کہ وہ دنیا میں کسی نہ کسی سے حد درجہ محبت کرتا ہے۔  اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تر جانتا مانتا ہے یہ عشق الگ الگ صورتوں میں دیکھنے کو  ہمیں ملتا ہے جس پر وہ اپنی جان تک قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ مگر حقیقت میں کامل و اکمل وہی عشق و محبت ہے جو شان ایمان،جو جانِ ایمان، اور روح ایمان، اور جس پر مر مٹنا زندگی کی معراج ہے اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ ہم غریبوں کے ماوی و ملجا، بے کسوں کے سہارا، یتیموں کے والی، خدا کے پیارے، آمنہ کے راج دلارے، حلیمہ سعدیہ کے پالنہارے،  ساری دنیا کے مرکز عقیدت جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات بابرکت ہے اور یہی وہ عشق و محبت ایک مومن مسلمان کے لئے کامیابی کی سب سے بڑی روشن دلیل ہے۔ 
             جن سے عقیدت و محبت کا درس دیتے ہوئے رب ذوالجلال نے ارشاد فرمایا___: 
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
ترجمہ:اے محبوب! تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔(کنزالایمان)
نیز نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ” (بخاری شریف، کتاب الایمان)
ترجمہ:تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن کامل نہیں بن سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے بیٹے، باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
           اس ارشاد کو سامنے رکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ اس فرمان پر کامل طور پر عمل پیرا ہوکر اپنی زندگی کو پیارے آقا ﷺ کے لیے قربان کردی اور عشقِ رسول ﷺ کا ایسا شمع فروزاں کیا جس کی لوح صبح قیامت تک مدھم نہیں ہوسکتی اور انہیں نفوس قدسیہ کے نقش قدم کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناتے ہوئے اولیائے عظام و محبوبان خدا نے بھی عشقِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا معیار بنایا اور فنافی الرسول ہو کر اپنی زندگی کے لمحات کو صَرف فرمایا انہیں عُشاق رسول میں سے ایک سچا عاشق رسول، سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں فاضل بریلوی قدس سرہٗ العزیز علیہ الرحمہ و الرضوان ہیں جو حضرت علامہ نقی خان علیہ الرحمہ الرضوان کے گھر ۱۰شوال المکرم ۱۲۷۲ء مطابق/ ۱۴جون ۱۸۵۶ھ میں تولد ہوئے۔ جنکا پیدائشی نام محمد اور تاریخی نام مختار رکھا۔ 
                 آپ کی ذات گوں نہ گوں اوصاف و کمالات کتاب بحر بیکراں تھی۔ آپ جہاں ایک بہت بڑے عالمِ دین، محقق، مفسر، محدث، مفتی، سائنسدان اورفقیہ و مجدد تھے وہیں آپ ایک بہت بڑے عاشقِ رسول ﷺ بھی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کو عشقِ رسول کا زینہ اور دل کو مدینہ بنا رکھا تھا۔  
       آپ سراپا عشقِ رسول اللہ ﷺ کا نمونۂ تھے۔ آپ کا نعتیہ کلام (حدائق بخشش) اس امر کا شاہد ہے۔ آپ کی نوکِ قلم بلکہ گہرائی قلب سے نکلا ہوا ہر مصرعہ آپ کی، سرکار ﷺ سے بے پناہ محبت و عقیدت کی شہادت دیتا ہے آپ نے کبھی کسی دنیوی تاجداروں کی خوشامد کے لیے قصیدہ نہیں لکھا، اس لیے کہ آپ نے حضور اقدس سرکار مدینہ ﷺ کی اطاعت و غلامی کو دل و جان سے قبول کرلیا تھا۔ اسکا اظہار آپ نے اپنے ایک شعر میں اس طرح فرمایا___:
   انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
       للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا
             (تذکرہ امام احمد رضا ۹ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، کراچی) 

     صاحبزادہ ہارون رشید ارشاد فرماتے ہیں___؛  آپ کے افعال و اقوال اور حرکات و سکنات سے فرمانِ رسول اللہ اس طرح سے لبریز معلوم ہوتا ہے ۔ کہ گویا خالقِ کل نے آپ کو احمدِ مختار کے عاشقوں کے لیے شمع ہدایت بنایا ہے تاکہ یہ مشعل اس جادہ پر چلنے والوں کو تکمیل ایمان کی منزل سے ہمکنار کرسکے۔
                 (پیغامات یومِ رضا) 
         اور آپ کی حیات طیبہ رسول اللہ ﷺ کی سنت پیروکار تھی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عالم اسلام میں آپ کی شہرت و مقبولیت کی وجہ تبلیغ دینِ متین کے علاوہ عشقِ رسول تھی یہی وہ سرمایہ تھا جس کے سبب آپ عاشق رسول جیسے مبارک لقب سے مقلب ہوۓ اور پوری دنیاۓ اسلام نے آپ کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا ہے، دیکھتے رہیں گے۔ 
         ذیل میں ایک واقعہ قلم بند کیا جارہا ہے جس سے اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کی ذات کے اندر کس قدر محبت رسول موجِ زَن تھی اور عشقِ رسول میں آپ سرشار رہا کرتے تھے۔

    واقعہ: اعلی حضرت جب زیارت حرمین شریفین کے لیے پہلی بار عازم سفر ہوئے تو شوق دیداد رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ عظیم میں حاضر ہوئے تو زیارت سے مشرف نہ ہوئے جب دوسری مرتبہ زیارت نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ کے لیے مدینہ طیبہ حاضر ہوئے تو شوق دیداد میں بے انتہا محبت میں ڈوب کر درود شریف پڑھتے رہے اور یقین کیا کہ سرکار ابد قرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ضرور عزت افزائی فرمائیں گے اور ضرور زیارت سے مشرف فرمائیں گے لیکن پہلی شب ایسا نہ ہوا تو ایک غزل لکھی جس کا مطلع یہ تھا:

 وہ   سوئے  لالہ   زار  پھرتے   ہیں
تیرے  دن  اے   بہار    پھرتے   ہیں
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ  سے  کِتے   ہزار   پھرتے  ہیں

       یہ غزل  آقائے کریم ﷺ میں عرض کر کے انتظار میں مؤدب بیٹھے تھے کہ قسمت جاگ اٹھی اور چشم سر سے بیداری میں زیارت حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مشرف ہوئے (سوانح اعلی حضرت:٣١٤،٣١٥)
             اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرکار اعلی حضرت علیہ الرحمہ و الرضوان عشق رسول میں اس قدر مست تھے کہ ان کا مقصد اولیں دیداد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تھا بعدہ حج و زیارت کا اشتیاق جیسا کہ خود آپ نے اپنی نعتیہ شاعری میں جا بجا اس کا اظہار فرمایا ہے۔

                                 ▪️▪️▪️

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں