جمعہ، 25 جون، 2021

<•✿┄━━>> ﷽ <<━━─┄ ✿•>

      تعلیم و تربیت کے تعلق سے "سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی قدس سرہ العزيز" کا دس نکاتی منصوبہ!
  منصوبہ نمبر 4👇
       ✥━•  استعداد کی جانچ  •━✥
امام احمد رضا تحریر فرماتے ہیں:
    " طبائع طلبا کی جانچ ہو، جو جس کام کے لیے زیادہ مناسب دیکھاے جاے، معقول وظیفہ دیکر اس کام میں لگایا جاے، یوں ان میں کچھ مدرسین بناے جائیں، کچھ واعظین، کچھ مصنفین، کچھ مناظرین، پھر تصنیف و مناظرہ میں بھی توزیع ہو، کوئی کسی فن پر کوئی کسی فن پر۔"
(فتاویٰ رضویہ، مطبوعہ رضا اکیڈمی، جلد: 12، ص: 133)
       موجودہ دور میں تخصص (Specialisation) مزاج بن چکا ہے۔ایک شعبے کا ماہر اپنے منتخب شعبے میں ہی کام کرتا ہے۔ اس نکتے میں امام احمد رضا نے طلبا کی کیفیت،استعداد،ذوق اور فکری میلان کی تشفی کا پہلو واضح کر دیا ۔قوم کی ترقی کے لیے ہر شعبہ ہاے علم وفن میں اس شعبے کے ماہر کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً ایک ماہر فن جو معاشیات سے شغف رکھتاہےاور اسے میڈیکل سائنس کے شعبے میں داخل کر دیا جاے تووہ اپنا فرض منصبی ادا نہ کر سکے گا۔
        امام احمد رضا رضی اللہ عنہ نے طلبا کے زوق کو ملحوظ رکھا،جو جس فن میں دلچسپی رکھتا ہواسے اپنے شعبے میں آگے بڑھایا جاےتاکہ اس کی صلاحیتوں کااستعمال ہو۔اس فکری نکتے میں آپ نے طلبا کی معاشی تشفی کابھی خیال رکھا اور وظیفہ کی ترغیب دی۔         
          اشاعت دین میں تصنیف و تالیف،وعظ وارشاد اور مناظرہ سبھی کی ضرورت ہےاور ان سب میں ماہر کی ضرورت ہے،مذکورہ نکتے پر عمل کی صورت میں اس کی تشفی پورے طور پر ہوتی ہے۔
❖ ماخذ:حیات رضا مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی❖ 
پیش کردہ: عالمہ رخسار اختری (رکن تحریک فروغ رضویات)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں