جمعہ، 25 جون، 2021

<•✿┄━━>> ﷽ <<━━─┄ ✿•>

   تعلیم و تربیت کے تعلق سے "سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی قدس سرہ العزيز" کا دس نکاتی منصوبہ!

  منصوبہ نمبر 3👇

 ✥━• مدرس اور ان کی قابلیت کا اعتراف•━✥

امام احمد رضا تحریر فرماتے ہیں:

     " مُدرسّوں کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کاروائیوں پر دی جائیں کہ لالچ سے جان توڑ کر کوشش کریں۔"

(فتاویٰ رضویہ، مطبوعہ رضا اکیڈمی، جلد: 12، ص: 133)

       مرحلۂ تربیت میں معلم کے کردار کو اساسی حیثیت حاصل ہے، لیکن معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ قومی و ملی تعلیم کی لگن رکھتا ہو اور اس کا عقیدہ صحیح و درست ہو ۔ وہ اپنی تدریس میں حق و صداقت کی تعلیم دے نہ کہ ایسی تعلیم جس سے فساد فکر واقع ہو ۔ امام احمد رضا نے مدرس کے لیے ایسے ضابطے دیے ہیں جن پر عمل کر لیا جاے تو جو طلبہ تیار ہوں گے ان سے اشاعت حق کا فریضہ بہ طریقہ احسن پورا ہوگا ۔ امام احمد رضا نے اس پہلو سے جو ضابطہ دیا ہے اسے بشکل نکات دیکھیں:

(1) انہماک فلسفات و توغل مزخرفات نے معلم کے نور قلب کو منطقی اور سلامت عقل کو منفی نہ کر دیا ہو کہ ایسے شخص پر  خود ان علوم ملعونہ سے یک لخت دامن کشی فرض اور اس کی تعلیم سے ضرراشد کی توقع ۔ 

(2) وہ عقاںد حقہ اسلامیہ سینہ سے بر وجہ کمال واقف و ماہر اور اثبات حق و ازہاق باطل پر بعونہ تعالیٰ قادر ہو ورنہ قلوب طلبا کا تحفظ نہ کر سکے گا ۔ 

(3)وہ اپنی اس قدر کو بہ التزام تام ہر سبق کے ایسے محل و مقام پر استعمال بھی کرتا ہے ہر گز کسی مسلۂ باطلا پر آگے نہ چلنے دے جب تک اس کا بطلان متعلم کے ذہن نشین نہ کر دے ۔ 

(4) متعلم کو قبل تعلیم خوب جانچ لے کہ پورا سنی صحیح العقیدہ ہے اور اس کے قلب میں فلسفہ ملعونہ کی عظمت و وقعت متمکن نہیں ۔

(5) اس کا ذہن بھی سلیم اور طبع مستقیم دیکھ لے بعض طباںٔع خواہی نخواہی زیغ کی طرف جاتے ہیں حق بات ان کے دلوں پر کم اثر کرتی اور جھوٹی جلد پیر جاتی ۔

(6) معلم و متعلم کی نیت صالح ہو نہ اغراض فاسدہ ۔ 

(7) تنہا اسی پر قانع نہ ہو بلکہ دینیات کے ساتھ ان کا سبق ہو کہ اس کی ظلمت اس کے نور سے متجلی ہوتی رہے۔

   ان شرائط کے لحاظ کے ساتھ بعونہ تعالی اس کے ضرر سے تحفظ رہے گا‌ ۔ اور اس تعلیم و تعلم سے انتفاع متوقع ہوگا ۔ 

    ( فتاویٰ رضویہ ( مترجم)، جلد ٢٣ ، ص ٦٣٥ ) 

        اصولی مدرس کے لیے ان شرائط میں کوئی پہلو نہیں چھوٹتا ۔ مطلوبہ شرائط کی روشنی میں فرض شناس مدرس کا تصور ابھرتا ہے ۔ امام احمد رضا ایسے قابل مدرس کے لیے ان کی خدمات کے پیش نظر عمدہ تنخواہ مقرر کرنے کی تلقین فرماتے ہیں، کہ جب وہ معاشی لحاظ سے آسودہ حال ہوں گے تو اپنی صلاحیتوں سے قوم کو راحت پہچائیں گے اور جو طلبا ان کے گوشۂ تربیت میں ہوں گے وہ فکری لحاظ سے صحت مند ہوں گے ۔

❖ماخذ: حیات رضا مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی ❖

پیش کردہ:  عالمہ شبینہ اختری(رکن تحریک فروغ رضویات)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں