تعلیم و تربیت کے تعلق سے "سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی قدس سرہ العزيز" کا دس نکاتی منصوبہ!
منصوبہ نمبر 5👇
✥━• اشاعتِ حق کے شعبے •━✥
امام احمد رضا تحریر فرماتے ہیں:
" مدارس میں جو طلبا تیار ہوتے جائیں، تنخواہیں دیکر ملک میں پھیلاے جائیں، کہ تحریرا و تقریرا، وعظًا و مناظرۃً اشاعتِ دین و مذہب کریں۔"
(فتاویٰ رضویہ، مطبوعہ رضا اکیڈمی، جلد: 12، ص: 133)
یہ نکتہ چوتھے سے مربوط ہے اس میں اشاعتِ دین کے شعبہ جات میں جو افراد جس شعبے کے لائق ہوں انہیں مختلف مقامات پر ضرورت کے تحت متعین کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اور آج اس کی اہمیت بھی کھل چکی ہے، عموما یہی ہوتا ہے کہ جہاں علمائے اہل سنت کی کمی ہوتی ہے ایسے ہی علاقوں میں بد مذہب زیادہ گمراہی پھیلاتے ہیں اس میں جو اہم نکتہ ہے وہ "معاشی تشفی" ہے اس رخ سے بھی ہماری بے توجہی قابل افسوس ہے۔ قابل علماء کو اگر مدعو کیا جاتا ہے تو تنخواہیں اتنی قلیل دی جاتی ہیں کہ وہ صحیح سے خدمت انجام نہیں دے پاتے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رخصت ہوجاتے ہیں۔ اس سمت ہمارے اصحابِ مال کو متوجہ ہونا چاہیے۔
امام احمد رضا نے اشاعتِ حق اور تبلیغِ دین کے متعدد شعبے ذکر کیۓ ہیں: تحریر و تصنیف، وعظ و تقریر، مناظرہ اور دعوت و تبلیغ وغیرہ۔ ہر شعبے میں قابلیت درکار ہے، قابلیت کا حصول سابقہ نکات پر عمل سے ہوسکتا ہے۔
❖ماخذ: حیات رضا مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی ❖
پیش کردہ: عالمہ مہوش اختری (رکن تحریک فروغ رضویات)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں