جمعہ، 25 جون، 2021

<•✿┄━━>> ﷽ <<━━─┄ ✿•>

         تعلیم و تربیت کے تعلق سے "سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی قدس سرہ العزيز" کا دس نکاتی منصوبہ!
  منصوبہ نمبر 6👇
 ✥━• تصنیف اور مصنفوں کی پزیرائی•━✥
امام احمد رضا تحریر فرماتے ہیں:
      "حمایتِ مذہب و ردّ بد مذہباں میں مفید کتب و رسائل مصنفوں کو نذرانے دیکر تصنیف کراے جائیں ۔"
      (فتاویٰ رضویہ، مطبوعہ رضا اکیڈمی، جلد: 12، ص: 133)
        کتابوں اور لٹریچر کی اہمیت ہر دور میں مسلّم رہی ہے۔ انقلابات کی تاریخ پڑھ جائیے جن کا سبب نظریاتی لٹریچر بنے۔ مصنف کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد بھی اس کی تحریر کے ذریعے اس کا مشن جاری رہتا ہے۔ اسلام کے گلشن نور و نکہت میں کھلنے والے پھولوں نے تحریر کے ذریعے وہ کارہاے نمایاں انجام دییے اور ہر دور میں اٹھنے والے فتنوں کی  بیخ کنی نوک قلم سے کی جس سے آج بھی دل و دماغ معطر اور روح تازہ ہے۔ امام احمد رضا کی ذات ہی کو لیجۓ آپ کے دور میں داخلی و خارجی فتنوں کی بھیڑ تھی اور ہر ایک کا حملہ ذات مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر تھا لیکن امام احمد رضا نے اپنی خداداد صلاحیت اور تدبر و ذہانت کی بنیاد پر ان فتنوں کو بے نقاب کرکے رکھ دیا اور بجا فرمایا:
 کلک رضا ہے خنجر خوں خوار   برق بار
اعدا سے کہہ دو خیر منائیں نہ شر کریں
     قلم کی اہمیت رب عزوجل نے بتائ:
             "عَلّمَ بِالْقَلَمِ ۞عَلَّمَ الِْانْسَانَ مَالَمْ یَعْالَمْ " قلم سے لکھنا سکھایا، آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا"۔    (کنز الایمان)
   امام احمد رضا نے جو کچھ علمی و قلمی اور تصنیفی کام کیا محض رضاے الٰہی کے لۓ کیا۔اور مصنفوں کی ایک ٹیم تیار کر دی جن میں ہر ایک فکر و دانش میں ممتاز اور نادر روزگار ہے، صالح لٹریچر کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ۔
       مذکورہ نکتے میں یہ فکر دی کہ باطل فرقے لٹریچر کے توسط سے ذہنوں کو بر باد کرتے ہیں لہذا صالح لٹریچر حمایت دین اور بد مزاہب کی تردید میں شائع کیے جائیں اور اصحاب قلم کی حوصلہ افزائ کی غرض سے  نذرانے پیش کیے جائیں اس طرح وہ خوش دلی سے کام کریں گے۔
     شعلہ بار مقررین کو نذرانے پیش کرنے کا رواج تو ہے لیکن مصنفین کی حوصلہ افزائ کا رجحان عنقا۔ جب کہ جماعت کی سر کردہ شخصیات اور اداروں کو مصنفین اور اصحاب قلم کی حوصلہ افزائ کرنی چاہیے۔
❖ماخذ: حیات رضا، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی❖
پیش کردہ: عالمہ شمع انصاری (رکن: تحریک فروغ رضویات)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں