جمعہ، 25 جون، 2021

<•✿┄━━>> ﷽ <<━━─┄ ✿•>     تعلیم و تربیت کے تعلق سے "سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی قدس سرہ العزيز" کا دس نکاتی منصوبہ!

  منصوبہ نمبر 7👇

 ✥━•  اشاعت کتب و رسائل •━✥

امام احمد رضا تحریر فرماتے ہیں:

      " تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل، عمدہ اور خوشخط چھاپ کر ملک میں مفت تقسیم کیے جائیں ۔"

      (فتاویٰ رضویہ، مطبوعہ رضا اکیڈمی، جلد: 12، ص: 133)

         یہ نکتہ پہلے نکتے سے مربوط ہے ۔ اشاعتی ترغیب ہے اور مطبوعہ موادکی ترسیل کا پہلو بھی ۔ ایک صدی قبل وضع کردہ اس تجویز کی اہمیت عہدِ رواں میں مزید کھلتی ہے ۔آج مادی چمک دمک دیکھی جاتی ہے , حالاں کہ باطن دیکھا جانا چاہئے حسن تو باطن میں ہوتا ہے ۔ ظاہر پر فریفتہ ہونے والے محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ بہر کیف علمی مواد کیسا ہی عمدہ ہو اگر اسے ظاہری حسن کے بغیر پیش کیا جائے تو لوگ متوجہ نہیں ہوتے ۔ تو جب سلف صالحین , علما و صوفی، نیز ہمارے اصحابِ قلم کی تصانیف کو، جن کی ایک شان ہے کیوں نہ انہیں اشاعت حق کی غرض سے دیدہ زیب انداز میں شائع کیا جائے ۔ پھر جو ذوقِ مطالعہ رکھتے ہیں ان تک بلا قیمت پہنچایا جائے ۔

       امام احمد رضا کے اس نکتے پر عہدِ رضا میں کسی قدر عمل شروع ہوگیا تھا ۔ اس وقت بریلی، پٹنہ , امرت سر ,آگرہ، سیتاپور , لاہور , رام پور کے اشاعتی ادارے تصانیف رضا اور  دیگر علماے اہلِ سنت کی دینی وعلمی کتابوں کی اشاعت کیا کرتے تھے ۔ خود امام احمد رضا کی سو سے زیادہ کتابیں 1330ھ تک شائع ہوچکی تھیں اور علمی دنیا میں مقبول بھی , اور ایسی کہ بار بار چھپیں , آپ تحریر فرماتے ہیں :     

           " نیاز مند کی چار سو تصانیف سے صرف کچھ اوپر سو اب تک مطبوع ہوئیں اور ہزاروں کی تعداد میں بلا معاوضہ تقسیم ہوا کیں جس کے سبب جو رسالہ چھپا جلد ختم ہوگیا ۔ بعض تین تین چار چار بار چھپے ۔"  

                 ( مرجع سابق , ص 132)

      انجمن نعمانیہ لاہور جو عہدِ رضا میں ایک سر گرم دینی و اشاعتی ادارہ تھا اس کے صدرِ ثانی مولانا شاہ محرم علی شاہ چشتی تصانیفِ رضا طلب فرمایا کرتے تھے، اسی پہلو سے اور نکتے کے دوسرے گوشے (مفت تقسیم ) سے متعلق امام احمد رضا لکھتے ہیں :

      "انجمن نعمانیہ میں غالباً رمضان مبارک ۲۰ھ میں اس وقت تک کے تمام موجودہ رسائل میں نے خود حاضر کیے ہیں اور انجمن سے رسید بھی آگئی ۔( چند سطور کے بعد لکھتے ہیں ) " دو برس سے عنان مطبع ایک انجمن نے اپنے ہاتھ میں لی ہے ۔ جس نے طریقہء فقیر تقسیم کتب بلاعوض کو منسوخ کردیا ۔ پھر بھی انجمن نعمانیہ کے لیے ہدیہ حاضر کرنے سے اس انجمن کو بھی انکار نہیں ہوسکتا ۔" 

❖ماخذ:  حیات رضا، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی❖

پیش کردہ: عالمہ علوینا مہک تحسینی (رکن: تحریک فروغ رضویات)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں