امام احمد رضا خان رضی اللّه عنہ کا نام پاک سنتے ہی اہل عقیدت شہر بریلی کو پیار و محبت کے ساتھ یاد کرتے ہیں ،کیوں کہ اس شہر میں ہمارا محبوب، ہمارےدلوں کی دھڑکن اور ہماری آنکھوں کا نور جلوہ فرما ہے ،اس شہر میں ہمارے ایمانوں کا محافظ ہے ،اسی شہر بریلی میں علم و حکمت کے وہ تاجدار پیدا ہوئے جنہیں دنیائے اسلام نے اعلیٰ حضرت کہا ،جنہیں علماء حق نے مجدد دین و ملت کہا اور جنہیں عاشقوں نے امام عشق و محبت کہا ۔
ولادت باسعادت: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی 10/شوال المكرم 1272ﮪ کو ہندستان کے مشہور و معروف شہر بریلی میں پیدا ہوئے ۔
نام : آپ کا تاریخی نام "المختار "ہے ،آپ کا اسم گرامی "محمد "ہے اور آپ کے والد محترم نقی علی خان ہیں آپ کے جدامجد آپ کو احمد رضا کہ کر پکارہ کرتے تھے اور آپ اسی نام سے مشہور ہوئے ۔
تكمیل تعلیم و فتویٰ نویسی: رسم بسم اللہ خوانی کے بعد ہی دور تعلیم کا آغاز ہو گیا اور صغر سنی میں یعنی چار برس کی عمر میں قرآن مجید کا ناظرہ ختم کر لیا چھ سال کی عمر میں ہی آپ نے بریلی شریف میں منعقد پروگرام موسوم بہ "محفل میلاد النبی ﷺ "میں میلاد النبی ﷺ کے موضوع پر ایک عظیم الشان خطاب فرمایااکیس علوم کی تعلیم آپ نے اپنے والد ماجد سے حاصل کی تیرہ برس کی عمر میں جملہ مروجہ علوم وفنون سے فارغ التحصیل ہوئے۔ اور "العلماء ورثتہ النبياء" کا تاج سر پر رکھا گیااسی دن آپ نے رضاعت کے متعلق پہلا فتویٰ لکھا ،جواب بالکل درست تھا ،والد ماجد نے خوش ہو کر فتویٰ نویسی کی اجازت دے دی اور مسند افتاء پر بٹھا دیا ۔
بیعت و خلافت: اپنے والد محترم کے ہمراہ کا شانہ مرشد حضرت آل رسول مارہروی (علیہ الرحمتہ )کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے۔آپ کے پیر و مرشد نے فرمایا اگر بروز قیامت احکم الحا كمین فرمائے گا اے آل رسول تم نے میرے لئے کیا لایا ہے تو میں احمد رضا کو پیش کر دوں گا ۔یعنی احمد رضا کو لایا ہوں ۔
زیارت حرمین شریفین: ذوالحجہ 1294ھ میں پہلی بار آپ نے زیارت حرمین شریفین اور طواف کعبہ فرمایا ۔دوسری مرتبہ آپ نے ربیع الاول 1324ھ کو بارگاہ رسالت میں حاضری دی ۔ایک ماہ تک مدینہ طیبہ میں قیام رہا ۔اسی دوران بڑے بڑے علماء آپ کی علمی کمالات اور دینی خدمات کو دیکھ کر آپ کے نورانی ہاتھوں پر مرید ہوئے اور آپ کو استاد پیشوا مانا اس سفر مبارک میں جو تین اہم کارنامے منظر عام پر آئے وہ یہ ہیں ۔
(1)بحالت بیداری آقا کریم علیہ السلام کی زیارت ہوئی تو پکار اٹھے-
اللّه کہ سرتا بقدم شان ہیں یہ
انساں نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
ایمان یہ کہتا ہے میری جان ہیں یہ
(2) 25/ذوالحجہ کو آپ نے علماء نجد کی طرف سے رسول کریم ﷺ کے علم غیب کے متعلق سوالات کے جواب میں شدت بخار کے باوجود بغیر کسی کتب کو دیکھے ہوئے صرف آٹھ گھنٹوں میں عربی زبان کے اندر ایک کتاب موسوم بہ "الدولتہ المکیہ با لمادتہ الغیبیہ "لکھی ،جس پر علما ء عرب نے نہ صرف داد سے نوازا بلكہ شریف مکہ نے وہ کتاب سطر بہ سطر لفظ بہ لفظ سماعت کی ۔
(3)اور آپ کو علما ء عرب نے "مجدد مأتہ حاضرتہ "کے لقب سے نوازا ۔
علوم و فنون میں مہارت: ایک سو پانچ علوم پر مہارت تامہ و کامل حاصل تھی ۔آپ کی ایک ہزار سے بھی زائد تصانیف ہیں ۔
كنزالایمان: آپ کی تفسیری مہارت کا ایک شاہکار آپ کا ترجمہ قرآن "كنز الایمان " بھی ہے ۔آپ نے عشق و محبت میں ڈوب کر قرآن مجید کا عمدہ اور مثالی ترجمہ کیا ۔
نعتیہ کلام: اعلیٰ حضرت رحمتہ اللّه علیہ چونکہ عربی فارسی و غیرہ زبانوں پر پوری قدرت رکھتے تھے ۔اسی لئے بلاتكلف ہر زبان میں شعر کہتے تھے ۔ایک مرتبہ آپ کے احباب میں سے جناب ارشاد اور جناب ناطق نے فرمائش کی کہ ایک ایسی نعت شریف لکھیں جس میں ۔
عربی ۔۔۔۔۔۔۔فارسی ۔۔۔۔۔۔اردو ۔۔۔۔۔۔ہندی چاروں زبانیں ہوں اعلیٰ حضرت رحمتہ اللّه علیہ نے اسی وقت ایک نعت شریف لکھ دی جس کے شروع والے اشعار یہ ہیں :
لم یأت نظیرک فی نظر مثل تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سرسو ہے تجھ کو شہ دوسرا جانا
اعلیٰ حضرت کا سلام "مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام "یہ سلام پوری دنیا میں گونج رہا ہے یہ آپ کی مقبولیت کو علامت ہے ۔
تقویٰ و پرہیز گاری: ہمارے اعلیٰ حضرت زہد و تقویٰ کے ایسے پیکر تھے ،جنہوں نے فرائض تو فرائض ،واجبات تو واجبات ،سنتیں بھی کبھی نہیں چھوڑیں اور نہ مستحبات ترک فرمائے اور تحدیث نعمت کے طور پر فرمایا کرتے تھے ۔
خوف نہ رکھ رضا ذرا تو تو ہے عبد مصطفی
تیرے لئے امان ہے تیرے لئے امان ہے
اعلیٰ حضرت کے تقویٰ و پرہیز گاری کا یہ عالم تھا کہ تندرست ہوں یا بیمار ،ہر حال میں پانچوں وقت با جماعت مسجد میں نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔
عشق مولیٰ اور محبت محبوب: اس طرح رچ
بس گئی تھی کہ آپ خود فرماتے ہیں کہ اگر میرے دل کو دو ٹکڑے کیا جائے تو ایک ٹکڑے پر لکھا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاالہ الااللّه دوسرے پر لکھا ہوگا ۔۔۔۔۔۔محمد رسول اللّه ﷺ
آپ کا وصال 25/ صفر 1340ھ کو جمعتہ المبارک کے دن دو بج کر 38 منٹ پر عین اذان کے وقت ادھر مسجد سے حی علی الفلاح کی آواز آئی ادھر اعلیٰ حضرت اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔
اعلیٰ حضرت کا آخری پیغام عشق رسول ﷺ اور پرہیزگاری ہے ۔اللّه ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے (آمین )
▪️▪️▪️
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں