جمعہ، 8 اکتوبر، 2021

اعلی حضرت کا بے مثال حافظہ! ‏ ‏

                      از قلم: اسما خانم اختری
  
   آپ رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالی نے بے مثال قوت حافظہ عطا فرمایا تھا چنانچہ حضرت علامہ محمد ظفر الدین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ایک بار پیلی بھیت تشریف لے گئے اور حضرت استاذی مولانا وصی احمد محدث سورتی قدس سرہ کے مہمان ہوئے۔ اثنائے گفتگو میں عقود الدریۃ تنقیح الفتاوی الحامیہ کا ذکر نکلا۔ حضرت محدث سورتی صاحب قدس سرہ نے فرمایا! میرے کتب خانہ میں ہے۔ اتفاق ہے کہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے کتب خانہ میں کتابوں کا کافی ذخیرہ تھا، اور ہر سال معقول رقم  کی نئ نئ کتابیں آیا کرتی تھیں۔ مگر اس وقت تک عقود الدریۃ منگوانے کا اتفاق نہ ہوا تھا، اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میں نے نہیں دیکھی ہے، جاتے وقت میرے ساتھ کر دیجیے گا۔ حضرت محدث سورتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بخوشی قبول کیا، اور کتاب لا کر حاضر کردی۔ مگر ساتھ ساتھ فرمایا کہ جب ملاحظہ فرمالیں تو بھیج دیجئے گا۔ اس لیے کہ آپ کے یہاں تو بہت کتابیں ہیں۔ میرے پاس یہی گنتی کی چند کتابیں ہیں، جن سے فتاوی دیا کرتا ہوں۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا! اچھا۔ اعلی حضرت کا قصد اسی دن واپسی کا تھا، مگر اعلیٰ حضرت کے ایک جاں نثار مرید نے حضرت کی دعوت کی، اس وجہ سے رک جانا پڑا۔ شب کو اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے عقود الدریۃ کو جو ایک ضخیم کتاب دو جلدوں میں تھی۔ ملاحظہ فرمالیا۔ دوسرے دن دوپہر کے بعد ظہر کی نماز پڑھ کر گاڑی کا وقت تھا۔ بریلی شریف روانگی کا قصد فرمایا۔ جب اسباب درست کیا جانے لگا تو عقود الدریۃ کو بجائے سامان میں رکھنے کے فرمایا کہ محدث صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو دے آؤ، مجھے تعجب ہوا کہ قصد لے جانے کا تھا، واپس کیوں فرما رہے ہیں؟ لیکن کچھ بولنے کی ہمت نہ ہوئی۔ حضرت محدث سورتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں میں نے حاضری کی، وہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے ملنے اور اسٹیشن تک ساتھ جانے کے لیے اپنے مکان سے تشریف لا ہی رہے تھے کہ میں نے اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد فرمایا ہوا جملہ عرض کیا، فرمایا! تم کتاب لیے میرے ساتھ واپس چلو میں اس کتاب کو لیے ہوئے حضرت محدث صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ واپس ہوا۔ حضرت محدث صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ میرا یہ کہنا کہ " جب ملاحظہ فرمالیں تو بھیج دیجئے گا" ملال ہوا کہ اس کتاب کو واپس کیا۔ فرمایا! قصد بریلی ساتھ لے جانے کا تھا، اور اگر کل ہی جاتا تو اس کتاب کو ساتھ لیتا جاتا۔ لیکن کل جب جانا نہ ہوا تو شب میں اور صبح کے وقت پوری کتاب دیکھ لی اب لے جانے کی ضرورت نہ رہی۔ حضرت محدث سورتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا! بس ایک مرتبہ دیکھ لینا کافی ہو گیا؟ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ دو تین ماہ تک تو جہاں کی عبارت کی ضرورت ہوگی، فتاویٰ میں لکھ دوں گا اور مضمون تو ان شاء اللہ تعالیٰ عمر بھر کے لیے محفوظ ہو گیا۔     
 ❖ ماخوذ: حیات اعلی حضرت ❖

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں